معروف نشانہ باز موہسن نواز نے حال ہی میں موصول ہونے والا تمغہ امتیاز پاکستان لانگ فاصلے کی رائفلز کی ترقی میں معاون اداروں اور پی ایل آر اے کے پطرن فیلڈ مارشل سید اسیم منیر کے نام وقف کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اس کھیل کی ترقی اور ادارہ جاتی حمایت کی عکاسی ہے جو کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بناتی ہے۔نواز نے واضح کیا کہ کابینہ ڈویژن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی تسلیم شدہ کوششوں نے شوٹنگ کو مرکزی کھیلوں کے فریم ورک میں لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول باقاعدہ ڈھانچہ اور سرکاری شناخت نے پلیئرز کے لیے راستے کھول دیے ہیں اور اب پاکستانی شُٹرز بین الاقوامی مقابلوں میں باضابطہ نمائندگی کر سکتے ہیں۔پی ایل آر اے کے قیام کو انہوں نے اس میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور بتایا کہ اس تنظیم نے لمبی فاصلے کی رائفلز کی عالمی تنظیم کے ساتھ رکنیت حاصل کر کے پاکستان کو پہلی بار رسمی طور پر اس صنف میں بین الاقوامی سطح پر نمائندگی دی ہے۔ اس کامیابی نے کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے واضح راستہ کھولا جو پہلے منظم قومی ڈھانچے کے بغیر رہ گئے تھے۔موہسن نواز نے اپنے کیریئر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کے بین الاقوامی انفرادی تمغوں کی تعداد دس ہے۔ انہوں نے برطانیہ، امریکہ اور جنوبی افریقہ میں نمایاں مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کی ہے اور سالِ ۲۰۲۳ کے عالمی چیمپئن کے زیرِ تربیت رہنے کے تجربے کو اپنی پیشہ ورانہ نشوونما کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ لمبی فاصلے کی رائفلنگ ایک انتہائی مخصوص اور منظم شعبہ بن چکا ہے جس کے لیے اعلیٰ سطحی اکیڈمیاں، جدید تربیتی سہولیات اور طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ محنت، ذہنی قوت اور مستقل مشق کے ساتھ پاکستان اس شعبے میں تیزی سے ترقی کر سکتا ہے بشرطیکہ ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور دور رس منصوبہ بندی جاری رکھی جائے۔نواز نے آرمی کی نظم و ضبط اور پروفیشنل ازم کو نیز دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون کو طالبانِ اعلٰی معیار کے کھلاڑی تیار کرنے میں موثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تجربہ کاری نوجوانوں تک منتقل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمغہ امتیاز ایک اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ خدمت اور ذمہ داری کا پیغام بھی ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اگلی نسل کی رہنمائی کریں تاکہ پاکستانی شُٹرز عالمی میچوں میں مضبوط انداز میں مقابلہ کریں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ حالات میں مثبت تبدیلی واضح ہے اور اگر سرکاری ادارے، اسپورٹس بورڈ اور دیگر شراکت دار مسلسل تعاون جاری رکھیں تو آئندہ برسوں میں پاکستان رائفلنگ کے میدان میں بین الاقوامی مقابلے جیتنے کے قابل بن سکتا ہے۔
