غیر ملکی میڈیکل تعلیم سے قبل پی ایم اینڈ ڈی سی رجسٹریشن لازمی قرار

newsdesk
4 Min Read
ذیلی کمیٹی نے میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کی منظوری، بیرونِ ملک طلبہ کی رجسٹریشن اور معیارات کو مضبوط کرنے کے لیے نئی ہدایات جاری کیں۔

اسلام آباد: نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی پاکستان میں طبی و دندان سازی کی تعلیم کے ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے، جبکہ میڈیکل و ڈینٹل کالجز اور پوسٹ گریجویٹ اہلیت کی منظوری سے متعلق ذیلی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری اصلاحات اور نئے ریگولیٹری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں طبی و دندان سازی کے تعلیمی اداروں کی منظوری کے نظام کو شفاف بنانے، انسپیکشن کے طریقہ کار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے اور انڈرگریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں کی منظوری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کمیٹی نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے انسپیکشن کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے شفاف، میرٹ پر مبنی اور مؤثر معائنے یقینی بنانے کے اقدامات کو سراہا۔ شرکاء کو انسپیکشن کے نئے طریقہ کار، اصلاحات اور معیار بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے نظام پر بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ انسپیکشن کے معیار اور قواعد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غفلت، بے ضابطگی یا قواعد کی خلاف ورزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں طبی تعلیم کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا قومی صحت کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

اجلاس میں بیرون ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے معاملات بھی زیر غور آئے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام طلبہ جو بیرون ملک میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ایم ڈی کیٹ امتحان پاس کرنا اور بیرون ملک روانگی سے قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں رجسٹریشن لازمی ہوگی تاکہ مستقبل میں ڈگری کی منظوری، لائسنس یا رجسٹریشن کے مسائل سے بچا جا سکے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ طلبہ داخلے سے قبل اس بات کی تصدیق کریں کہ متعلقہ غیر ملکی میڈیکل ادارہ پی ایم اینڈ ڈی سی کی تسلیم شدہ فہرست میں شامل ہو۔ مزید یہ کہ ادارہ ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن سے منظور شدہ ہو یا ورلڈ ڈائریکٹری آف میڈیکل اسکولز میں درج ہو۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ غیر ملکی میڈیکل ڈگری کے لیے کم از کم 6200 تدریسی گھنٹے، پانچ سالہ تعلیمی مدت اور 80 فیصد حاضری لازمی ہوگی۔

کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ جن ممالک میں تدریس کا ذریعہ انگریزی نہیں، وہاں طلبہ کو میڈیکل تعلیم شروع کرنے سے قبل کم از کم پانچ ماہ مقامی زبان سیکھنا ہوگی تاکہ مؤثر ابلاغ اور تعلیمی فہم یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں، بیرون ملک سے میڈیکل ڈگری مکمل کرنے والے طلبہ کو پاکستان میں رجسٹریشن کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کا نیشنل رجسٹریشن امتحان پاس کرنا ہوگا۔

کمیٹی نے طلبہ کو ہدایت کی کہ بیرون ملک روانگی سے قبل اپنے رہائشی پتے اور رابطہ نمبرز کی مکمل تفصیلات فراہم کریں، جبکہ تعلیم کی پوری مدت کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا حاصل کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات پاکستانی طلبہ کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کے تحفظ اور قومی و بین الاقوامی طبی معیار کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے