لاہور میں جاری 39واں سالانہ پانچ روزہ لاہور انٹرنیشنل بک فیئر چہارم روز بھی اپنے عروج پر نظر آیا جو 4 تا 8 فروری ایکسپو سینٹر جوہر ٹاؤن میں منعقد ہے۔ اسی سلسلے میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ایک یادگار مشاعرہ منعقد کیا جو ادب سے محبت رکھنے والوں کے لیے کشش کا باعث بنا۔مشاعرہ عنوان اس سے راہِ سخن نکلتی ہے کے تحت ہوا اور اس کے صدرِ جلسہ معروف شاعر غلام حسین ساجد تھے جبکہ ادبی شخصیت سعود عثمانی مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ افتتاحی کلمات نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران جہانگیر نے کہے جنہوں نے ادب کی اہمیت، مشاعروں کی روایت اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ادبی کردار پر روشنی ڈالی۔تقریب میں واجد امیر، حمیدہ شاہین، عرفان صادق، منظر اعجاز، عنبرین صلاح الدین، شاہد اشرف اور سلیم اختر نے کلام پیش کیا جن کے فکر انگیز اور پراثر اشعار نے حاضرین کو محظوظ کیا۔ معروف شاعر نوید صادق نے نظامت کے فرائض سرانجام دئیے اور شاعروں کی پیش کردہ غزلیں و نظموں پر حاضرین کی زبردست داد و تحسین دیکھنے میں آئی۔سامعین نے ہر کلام پر دل کھول کر پذیرائی کی اور مشاعرہ اس جذبے کا آئینہ دار بنا جس میں ادب کی بقا اور فروغ کے لیے عوامی دلچسپی واضح ہوئی۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے اس قسم کی ادبی تقریبات کو سراہا گیا اور ادارے کی کتاب کلچر کو فروغ دینے والی کوششوں کو نمایاں قرار دیا گیا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر کامران جہانگیر نے شعراء کو کتابی تحائف پیش کیے اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کی قیادت میں ادارے کی مسلسل ترقی اور ادبی سرگرمیوں کی تعریف کی گئی۔ یہ مشاعرہ نہ صرف اردو ادب کے فروغ کا باعث بنا بلکہ اس بات کا ثبوت بھی تھا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن نوجوان نسل کو کتاب اور ادب سے جوڑنے میں موثر کردار ادا کر رہا ہے۔
