اسلام آباد: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے وفد کے ہمراہ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی جس میں وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا شامل تھے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بار بار بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے مگر بعد ازاں انہیں ملتوی کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت کے عوام اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم ہیں۔
لیاقت بلوچ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے تسلیم کیا کہ حکومتوں کی جانب سے انتخابی ایکٹ میں بار بار ترامیم لانے کے باعث انتخابات ملتوی ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کرانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور آئین پاکستان کے تحت بلدیاتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک مسلسل سیاسی کشمکش کا شکار ہے جس کا فائدہ سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ اٹھاتی ہے۔ ان کے بقول جب تک مقامی حکومتوں کا نظام بااختیار نہیں ہوگا، ملک کی سیاست میں استحکام نہیں آ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات نہ کرا کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جماعت اقتدار میں آنے کے بعد بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی، جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی بااختیار ہونا چاہیے۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق الیکشن کمیشن نے تقریباً 63 انتخابی ترامیم حکومت کو بھجوائی ہیں، لیکن حکومت اس سلسلے میں کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اصلاحاتی ترامیم کا مسودہ فراہم کیا جائے تاکہ جماعت اسلامی اس معاملے پر آواز اٹھا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد ملازمت میں ملنے والی دو سالہ توسیع بھی پوری کر چکے ہیں، تاہم چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری کا معاملہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ، مگر اپوزیشن لیڈر کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ایڈہاک ازم کا خاتمہ ضروری ہے اور ملک میں انتخابی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی پر زور دیا کہ انتخابی اصلاحات کو پیش نظر رکھا جائے اور جماعت اسلامی کی متناسب نمائندگی سے متعلق اصلاحات کو بھی شامل کیا جائے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات پانچ مرتبہ ملتوی کیے جا چکے ہیں، جبکہ کاغذات نامزدگی کی فیس کی رقم بھی ہڑپ کر لی گئی۔ ان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ یہ رقم واپس کی جائے گی۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ مقامی حکومتوں کی مدت کا بھی تعین ہونا چاہیے۔
