خصوصی کمیٹی برائے جنڈر مینسٹریمِنگ نے وفاقی سطح پر خواتین کے حقوق کے فریم ورک پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی کمیشن کی مستقل سربراہی میں تاخیر ادارہ جاتی صلاحیت اور پارلیمانی نمائندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کی اور اجلاس میں جنڈر ریئسپانسِو بجٹنگ، خواتین کے مخصوص ترقیاتی منصوبوں اور موجودہ پالیسیوں کے نفاذ میں خالی جگہوں کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے واضح طور پر کہا کہ قومی کمیشن برائے خواتین ملک کی مرکزی قانونی و حکومتی ادارہ ہے اور اس کی قیادت خالی رکھنا قبول نہیں۔ ممبران نے مطالبہ کیا کہ مستقل چیئرمین کی تقرری شفاف عمل کے تحت جلد از جلد کی جائے تاکہ کمیشن کی کارروائی، نگرانی اور پارلیمانی سطح پر مؤثر نمائندگی بحال ہو۔
اجلاس میں وزارتِ انسانی حقوق کے سینئر عہدیداروں کی غیرحاضری پر بھی سخت نوٹس لیا گیا اور کہا گیا کہ حساس موضوعات پر وزارتوں کو پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے مناسب نمائندگی یقینی بنانی چاہیے۔ ممبران نے اس غیرحاضری کو ادارہ جاتی لاپرواہی قرار دیا اور متعلقہ محکموں کو آئندہ پیشی کے لئے ہدایات جاری کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں خواتین کے لئے مخصوص مختص رقم کی انتہائی کم شرح پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور بتایا گیا کہ جنڈر مخصوص الاپشنز حدوداً 0.4 فیصد بنتی ہیں۔ ممبران نے کہا کہ یہ شرح ملک میں تعلیم، روزگار، صحت اور معاشی شمولیت کے سنگین جنسی تفاوت کے پیشِ نظر ناکافی اور تشویش ناک ہے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ جنڈر بجٹنگ محض تکنیکی درجہ بندی نہیں رہنی چاہئے بلکہ اسے حقیقی مالی اعانت، قابل پیمائش اہداف اور خواتین کی معاشی و سماجی حالت میں واضح بہتری میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ممبران نے وفاقی بجٹ کے ساتھ ایک مستقل جنڈر بجٹ اسٹیٹمنٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ عوامی خرچ کی خواتین پر مبنی شفاف نگرانی ممکن ہو سکے۔
واضح ہدایت کے مطابق وزارتِ منصوبہ بندی کو جنڈر تجزیہ کے نظام کو مضبوط بنانے، خواتین کے منصوبوں کی مانیٹرنگ بہتر کرنے اور نفاذ کے نتائج پر باقاعدہ رپورٹیں پیش کرنے کا کہا گیا۔ کمیٹی نے منصوبہ بندی کے عمل میں جنڈر مینسٹریمِنگ کو مرکزیت دینے پر زور دیا۔
اجلاس میں عزت کے جرائم اور دیگر صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں اضافہ بھی زیرِ بحث آیا۔ ممبران نے کہا کہ قانون موجود ہونے کے باوجود کمزور نفاذ، سماجی دباؤ اور ناقص پراسیکیوشن خواتین کو تشدد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ کمیٹی نے ادارہ جاتی ہم آہنگی، بہتر پراسیکیوشن میکانزم، شعوری مہمات اور سخت احتساب کے ذریعے متاثرین کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے اقوامِ متحدہ کے ایک حالیہ اجلاس میں قومی کمیشن کی غیر موجودگی پر اطمینان کا اظہار نہیں کیا اور کہا کہ ملک کی مرکزی خواتین حقوق کی باڈی بین الاقوامی فورمز میں شرکت کرے تاکہ عالمی معاہدوں اور وعدوں کے تحت پاکستان کی نمائندگی ہو۔ ممبران نے غیرحاضری کی وضاحت طلب کی اور تاکید کی کہ ایسے فورمز پر قومی کمیشن کی شرکت لازمی ہے۔
کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ جنڈر مینسٹریمِنگ کو محض نظمیاتی بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے قومی منصوبہ بندی، بجٹنگ اور گورننس کا لازمی حصہ بننا ہوگا۔ ممبران نے زور دیا کہ خواتین آبادی کا نصف سے زائد حصہ ہیں اور انہیں ترقیاتی ترجیحات، عوامی خرچ اور ادارہ جاتی قیادت میں مناسب اور معنی خیز نمائندگی ملنی چاہیے تاکہ حقیقی تبدیلی واقع ہو سکے۔
