پشاور، 6 اگست: خیبر پختونخوا میں آئی ایل ایم پیکٹ (ILMpact) پروگرام کے تحت 97 ہزار سے زائد بچوں کی پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حسابی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے اس کامیاب تعلیمی ماڈل کو سرکاری اسکولوں کے نظام میں شامل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پروگرام کے نتائج جمعرات کو پشاور میں منعقدہ تقریب ”آئی ایل ایم پیکٹ اسپاٹ لائٹ: خیبر پختونخوا کے ہر بچے کے لیے بنیادی خواندگی اور حسابی مہارتوں کا فروغ“ میں پیش کیے گئے۔ تقریب کا اہتمام حکومت خیبر پختونخوا اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم (E&SED) نے مشترکہ طور پر کیا۔
حکام کے مطابق آئی ایل ایم پیکٹ پروگرام سے مجموعی طور پر 97 ہزار 413 بچوں نے براہ راست فائدہ اٹھایا۔ یہ منصوبہ صوبے کے آٹھ اضلاع بٹگرام، بونیر، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، پشاور، شانگلہ اور صوابی کے 320 سرکاری اسکولوں میں نافذ کیا گیا۔ ان اسکولوں میں 200 گرلز پرائمری اسکول اور 120 مڈل و ہائی اسکول شامل تھے۔
پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال سے کم مدت میں اردو میں کہانی پڑھنے کے قابل بچوں کی تعداد میں 79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی عرصے کے دوران انگریزی میں جملہ پڑھنے والے بچوں کی تعداد 52 فیصد بڑھی، جبکہ ریاضی میں تفریق یعنی منفی کے سوالات حل کرنے کی اہلیت رکھنے والے بچوں کی تعداد میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔
حکام نے بتایا کہ ہر طالب علم کو تقریباً 140 گھنٹے اضافی تدریسی معاونت فراہم کی گئی۔ یہ معاونت ٹیچنگ ایٹ دی رائٹ لیول (TaRL) طریقۂ تدریس کے تحت دی گئی، جس میں بچوں کو عمر یا جماعت کے بجائے ان کی موجودہ تعلیمی استعداد اور ضرورت کے مطابق گروپوں میں رکھا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد خواندگی اور حسابی مہارتوں میں پائی جانے والی کمی کو مؤثر انداز میں دور کرنا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے منیجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم نے کہا کہ پروگرام نے ثابت کیا ہے کہ بروقت اور ہدفی تدریسی معاونت تعلیمی طور پر پیچھے رہ جانے والے بچوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔
قیصر عالم نے کہا، ”ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ درست حکمت عملی اور مناسب تدریسی معاونت ان بچوں کی تعلیمی کارکردگی کو کس طرح بہتر بنا سکتی ہے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ آئی ایل ایم پیکٹ نے ہمیں ایک مؤثر ماڈل دیا ہے جسے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں وسعت دی جائے گی تاکہ خیبر پختونخوا کا کوئی بچہ پڑھنے، لکھنے اور گننے کی بنیادی صلاحیت سے محروم نہ رہے۔“
تقریب کے دوران ایک پینل مباحثہ بھی ہوا جس میں بنیادی تعلیم، شواہد پر مبنی تدریسی حکمت عملی، تعلیمی تلافی، شمولیت اور بچوں کے تحفظ سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ شرکاء نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ پروگرام کے دائرہ کار کو پورے صوبے تک کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔
صوبائی حکومت نے پروگرام کی کامیابی میں برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (FCDO)، برٹش کونسل، شراکت دار اداروں، اساتذہ اور طلبہ کے کردار کو سراہا اور بنیادی خواندگی و حسابی مہارتوں کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
