قومی ادارہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، مصطفیٰ کمال

newsdesk
2 Min Read
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی ادارہ صحت کے بورڈ آف گورنرز سے خطاب کیا۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی ادارہ صحت کے بورڈ آف گورنرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ادارہ صحت ملک کے نظام صحت میں مرکزی اہمیت کا حامل ادارہ ہے اور اسے اپنے مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے مزید مؤثر انداز میں کام کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر صحت نے بورڈ کے تمام اراکین کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ قومی ادارہ صحت وبائی امراض سے نمٹنے، تشخیص، تحقیق، تربیت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت صحت کے شعبے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ متعدی اور غیر متعدی امراض کا بوجھ روز بروز بڑھ رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وزارت صحت میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے کے لیے عملی اقدامات ان کی ترجیحات میں شامل ہیں، جبکہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کو وسعت دینا ان کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ بیماریوں کے خطرات کی بروقت نشاندہی کے لیے رئیل ٹائم نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی مقامی تیاری اور معیار کے عمل کو فروغ دے کر ویکسین سکیورٹی کے قومی ہدف کا حصول یقینی بنایا جائے۔

مصطفیٰ کمال نے قومی ادارہ صحت پر زور دیا کہ وہ صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کے اراکین کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ان کے اقدامات اور فیصلے براہ راست کروڑوں پاکستانیوں کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت صحت پاکستان قومی ادارہ صحت کو اس کے مینڈیٹ کی تکمیل میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ قومی ادارہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

Share This Article