ہمنوا نے ہنزہ میں پہلا گانا جاری کر دیا

newsdesk
4 Min Read
ہمنوا نے ہنزہ سے پہلا گانا 'حیران امانم' جاری کیا، بروشسکی راگ، بین الاقوامی تعاون اور روایتی آلات کا حسین امتزاج

ہنزہ کے شاندار قدرتی مناظر میں ایک موسیقیاتی تجربہ نے اپنی اولین آہنگ پیش کی ہے۔ ’حیران امانم‘ ایک بروشسکی گیت ہے جو جذبۂ حیرت اور محبت کی وہ کیفیت بیان کرتا ہے جب رکاوٹیں ختم ہو کر انسان کا منظرِ فکر بدل جاتی ہیں۔ یہ گانا براہِ راست ریکارڈنگ کے ذریعے تیار کیا گیا اور اس میں رباب، آکو سٹک اور الیکٹرک گٹار، بانسری اور سِنٹھ کے بیٹ شامل ہیں جنہوں نے پاک شمالی علاقہ کی لَے اور پامیری سرائش کو خوبصورت انداز میں جوڑا ہے۔یہ پروجیکٹ ایک بین الاقوامی موسیقی مہم کے طور پر سامنے آیا ہے جس کا مقصد فنکارانہ تبادلہ، خودمختاری کی حمایت اور پاکستان کو ایک ثقافتی مرکز کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اس خیال کے تحت بننے والی تنظیم ہمنوا کی بنیاد زلفی اور محمد ابراہیم نے رکھی اور ہمنوا نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کو ایک چھت تلے جمع کیا تاکہ مقامی روایت اور عالمی آوازوں کا مشترکہ اظہار ممکن ہو سکے۔ہمنوا کے پہلے سیزن کا کیمپ ہنزہ میں منعقد ہوا جہاں تیس سے زائد موسیقار اور تعاون کار شامل تھے جن میں فرانس، جرمنی، الجزائر اور زامبیا سمیت پاکستان اور ہنزہ کے فنکار شامل تھے۔ اس اجتماع نے مختلف روایات، دھنوں اور زندگی کے تجربات کو ایک جگہ جوڑ کر نیا صوتی منظرنامہ پیدا کیا، اور ہمنوا کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جو سرحدیں پار کر کے موسیقی کو ایک پل کی مانند جوڑتا ہے۔’حیران امانم‘ نوجوان جوڑی رضوان عباس اور ماہین ستار کی آوازوں پر مبنی ہے اور اسے زلفی نے پروڈیوس کیا۔ اس پر بکرن تملفاتی، امین لاروگ اور دوریان یوناس گوئٹش جیسے بین الاقوامی موسیقاروں نے حصہ دیا جبکہ دھن کا تخلیقی عمل زلفی، ذوالفقار علی خان برچہ اور فہیم الدین ہنزئی نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ ترتیب کا کام زلفی اور شیری کھٹک نے کیا اور میوزک کی قیادت، مکسنگ اور پروڈکشن کا بوجھ زلفی نے اٹھایا۔موزیک ویزول کا کام عامر مغل نے سنبھالا جبکہ پوسٹ پروڈکشن مہروز رضا نے کیا، پروڈکشن ڈیزائن ہاشم ال اور سحرہ بوہرا نے ترتیب دیا اور اسٹائلنگ واجیہ بدر نے کی۔ گانے کے لہر کھولنے والے مناظر اور لائیو ریکارڈنگ کا احساس، ہمنوا کے تخلیقی ماحول اور ہنزہ کے قدرتی مناظر کے سنگم سے ابھرا ہے، جو اس تجربے کو مزید حقیقی اور مؤثر بناتا ہے۔ہمنوا کا مقصد صرف موسیقی کی نمائش نہیں بلکہ ایک مستقل ثقافتی مکالمہ قائم کرنا ہے جو پاکستان کو عالمی فنکارانہ تبادلے کے لیے ایک زندہ مرکز کے طور پر پیش کرے۔ ہمنوا کی یہ کوشش مقامی روایت، بین الاقوامی تخلیق اور آزاد فنی اظہار کو ایک ساتھ لاتی ہے اور اس کے تحت آنے والے مزید گیت جیسے نورِ نظر، قطغانی، ہولوویور، سوئے، لاسٹ اِن لوو، کوئی اچھی خبر، اسکیٹا اور درمان مستقبل میں اس سفر کو آگے بڑھائیں گے۔گانا اب ٹیلی ویژن اور مختلف آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے اور ہمنوا کے اس پہلے قدم نے واضح کر دیا ہے کہ موسیقی کے ذریعے ثقافتی پل بنائے جا سکتے ہیں اور ہمنوا اسی وابستگی کے ساتھ آگے بڑھنے کا اعلان کرتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے