اسلام آباد میں ہواوے کا قومی سپیئر پارٹس ریپیئر سینٹر فعال، شزہ فاطمہ نے افتتاح کیا

newsdesk
5 Min Read
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں ہواوے کے قومی سطح کے سپیئر پارٹس ریپیئر سینٹر کا افتتاح کیا۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں ہواوے کے قومی سطح کے سپیئر پارٹس ریپیئر سینٹر کا افتتاح کر دیا۔ اس مرکز کے قیام کا مقصد ملک کے اندر مرمت کی صلاحیت کو فروغ دینا، بیرون ملک خدمات پر انحصار کم کرنا اور پاکستان کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ افتتاحی تقریب میں ہواوے پاکستان کے سی ای او ایتھن سن بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا تصور ایسی ہنرمند اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری پر مبنی ہے جو عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے ساتھ قدر بھی پیدا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے محض صارف کے کردار سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل حل تیار کرنے، بنانے اور برآمد کرنے کی سمت فیصلہ کن پیش رفت کر رہا ہے، جس کی بنیاد عوام کی مہارت اور جدت پر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ریپیئر سینٹر کا قیام پاکستان کے ڈیجیٹل اور ٹیلی کام ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق اس سے مقامی استعداد اور تکنیکی مہارت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے پاکستان میں ہواوے کی سرمایہ کاری، علم کی منتقلی اور صلاحیت سازی کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی شراکت داریاں ملک کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی پائیداری کو بہتر بناتی ہیں اور ایک زیادہ باصلاحیت، مربوط اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار پاکستان کی تشکیل میں مدد دیتی ہیں۔

ہواوے پاکستان کے سی ای او ایتھن سن نے کہا کہ ہواوے کو پاکستان کے ساتھ پائیدار تکنیکی مہارت کی تعمیر میں شراکت پر فخر ہے۔ ان کے مطابق یہ سینٹر عالمی ٹیکنالوجی کو مقامی صلاحیت میں تبدیل کرنے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس سے ملک کے لیے تیز تر سروس اور مضبوط نیٹ ورکس کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

یہ ریپیئر سینٹر ملک بھر میں نصب ہواوے کے ٹیلی کام آلات کی مرمت، ٹیسٹنگ، خرابیوں کی نشاندہی اور دیکھ بھال کی جامع سہولت فراہم کرے گا۔ مقامی سطح پر تشخیص اور مرمت سے مرمتی عمل کا دورانیہ کم ہوگا، نیٹ ورک کی پائیداری بڑھے گی اور اخراجات میں نمایاں بچت ممکن ہوگی، جس کا فائدہ صارفین کو بہتر سروس کی صورت میں ملے گا۔

مرکز میں 16 خصوصی ریپیئر ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ یہ سہولت وائرلیس، مائیکرو ویو، ڈیجیٹل پاور اور ایکسیس نیٹ ورک ٹیکنالوجیز سے متعلق 180 سے زائد ایکوپمنٹ آئٹم کوڈز کو سپورٹ کرتی ہے۔ خرابی کی نشاندہی اور لوڈ ٹیسٹنگ کے لیے ہواوے کے مخصوص ڈائیگنوسٹک پلیٹ فارمز کی معاونت بھی حاصل ہے۔

اس مرکز میں 10 سے زائد مقامی ہارڈ ویئر ماہرین خدمات انجام دیں گے، جنہیں ہواوے مینٹیننس میں 12 سال سے زائد تجربہ حاصل ہے اور وہ ہواوے کے چین ہیڈ کوارٹرز سے ماہر سطح کی تربیت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ انتظام ہواوے کے نالج ٹرانسفر ماڈل کی عملی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

مرکز سالانہ 10 ہزار سے زائد ماڈیولز پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ تقریباً 60 فیصد اوسط کامیابی کی شرح کے ساتھ ہر سال 6 ہزار سے زائد مرمت شدہ پرزہ جات دوبارہ سروس میں واپس لائے جا سکیں گے۔ اس سے پرزوں کی تبدیلی کی ضرورت اور بیرون ملک مرمت پر انحصار دونوں میں کمی آئے گی۔ مقامی سطح پر یہ صلاحیت قومی آفات یا ہنگامی حالات میں بھی ہواوے کو فوری ردعمل دینے کے قابل بنائے گی، جب نیٹ ورک کا تسلسل انتہائی اہم ہوتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ ریپیئر سینٹر تیز مقامی مینٹیننس، بیرون ملک مرمت پر کم انحصار اور ہنگامی و معمول کے حالات میں نیٹ ورک کے تسلسل کو سہارا دے کر پاکستان کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا۔

Share This Article