وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی نزدیکیاں دیکھتے ہوئے فوری طور پر پمز پولی کلینک پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور دونوں ہسپتالوں میں طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر نے موقع پر موجود ڈاکٹرز، سرجنز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہدایات دیں اور مریضوں کی بروقت دیکھ بھال کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔
وزیر نے بتایا کہ پمز میں کل ١٤٩ کیسز لائے گئے جن میں ٢٨ لاشیں بھی ہسپتال منتقل کی گئیں۔ پمز میں زیر علاج زخمیوں کی تعداد ١٢١ ہے جن میں سے ٢٥ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولی کلینک کو منتقل کیے گئے مریضوں میں ٤ لاشیں اور ١٣ زخمی شامل ہیں جن میں ٤ کی حالت سنگین ہے۔
پمز پولی کلینک دونوں جگہ طبی ساز و سامان، ادویات اور خون کی وافر مقدار موجود ہے۔ پمز میں دس آپریشن تھیٹر مکمل طور پر آپریشنل ہیں اور طبی عملہ مکمل طور پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ تقریباً ٦٠ سے زائد خون کی بوتلیں زخمیوں کو منتقل کی گئی ہیں تاکہ فوری ضرورت پوری کی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ واقعے کے فوری بعد دونوں ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا تھا اور وزارت صحت کے سینئر افسران صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جا رہی اور تمام ممکنہ وسائل زخمیوں کے علاج کے لیے بروئے کار لائے گئے ہیں۔
ہسپتالوں کی ٹیموں نے انتھک محنت کرتے ہوئے اب تک ٢٠ بڑے آپریشن مکمل کیے ہیں جبکہ ٤ سے ٦ مزید آپریشن جاری ہیں۔ تمام شدتوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بلایا گیا ہے اور جراح، ڈاکٹرز اور ادویات ہر لمحہ دستیاب ہیں تاکہ مریضوں کو بہترین طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔
وزیر صحت نے اس دل دہلا دینے والے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت کی اور شہیدوں کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر دے۔ انہوں نے زخمیوں کے جلد صحتیابی کی بھی دعا کی اور واضح کیا کہ اب تک زیر علاج زخمیوں میں ہسپتالوں میں کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر صحت کا پمز اور پولی کلینک کا فوری دورہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
