موٹرویز پر نقد ٹول وصولی جاری، این ایچ اے نے 71 ارب 54 کروڑ روپے جمع کر لیے
ندیم تنولی
اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اپنی زیر انتظام چھ موٹرویز سے 71 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کی مجموعی آمدن حاصل کر لی، جس میں سے 85 فیصد رقم ایم ٹیگ کے ذریعے بغیر نقد ادائیگی کے نظام سے وصول کی گئی، جبکہ 15 فیصد ٹول اب بھی نقد وصول کیا جا رہا ہے، حالانکہ نقد ادائیگی پر اضافی 50 فیصد ٹول عائد کیا جا چکا ہے۔
یہ انکشاف سینیٹ کے سوال و جواب کے اجلاس میں سامنے آیا، جہاں ٹول وصولی کی پالیسی، نقد ادائیگی کی حوصلہ شکنی، مسافروں پر اضافی بوجھ اور موٹروے آمدن کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق این ایچ اے نے تمام موٹروے لینز پر ایم ٹیگ پر مبنی الیکٹرانک ٹول وصولی نظام نافذ کیا تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور بغیر نقد ادائیگی کے نظام کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اضافی جرمانہ عائد کیے جانے کے باوجود ٹول کی ایک بڑی مقدار اب بھی نقد وصول کی جا رہی ہے۔
جواب میں بتایا گیا کہ این ایچ اے براہ راست چھ موٹرویز چلا رہی ہے جن میں پشاور اسلام آباد موٹروے ایم ون، لاہور عبدالحکیم موٹروے ایم تھری، پنڈی بھٹیاں ملتان موٹروے ایم فور، ملتان سکھر موٹروے ایم فائیو، ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے ایم فورٹین اور ہزارہ ایکسپریس وے ای تھرٹی فائیو شامل ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد لاہور موٹروے ایم ٹو، کراچی حیدرآباد موٹروے ایم نائن اور سیالکوٹ لاہور موٹروے ایم الیون تعمیر، آپریشن اور منتقلی کے معاہدے کے تحت فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں۔
تحریری جواب کے مطابق این ایچ اے کے زیر انتظام چھ موٹرویز سے رپورٹ کردہ مدت کے دوران 71 ارب 54 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد آمدن حاصل ہوئی۔ اس میں سے 85 فیصد رقم ایم ٹیگ کے ذریعے وصول کی گئی جبکہ باقی 15 فیصد نقد ادائیگی کی صورت میں جمع ہوئی۔ اضافی 50 فیصد ٹول کے باوجود نقد وصولی جاری رہنے سے موٹروے صارفین کو مکمل طور پر الیکٹرانک نظام پر منتقل کرنے میں مشکلات سامنے آئی ہیں۔
حکومت نے سینیٹ کو بتایا کہ این ایچ اے کے شاہراہی نیٹ ورک پر ایم ٹیگ سے حاصل ہونے والی آمدن روڈز مینٹیننس اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی ہے۔ یہ فنڈز این ایچ اے کے 14 ہزار 480 کلومیٹر طویل شاہراہی نیٹ ورک کی مرمت اور بحالی پر خرچ کیے جاتے ہیں۔
مقررہ طریقہ کار کے تحت اس آمدن کا پہلا استعمال قومی شاہراہوں اور موٹرویز کی معمول اور وقفہ وار مرمت پر کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں بحالی کے منصوبے جبکہ اس کے بعد شاہراہوں کی بہتری اور حفاظتی اقدامات پر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ اس آمدن کو نئے ٹول پلازوں، ویٹ اسٹیشنز، راہداری انتظام اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایم ٹیگ کی ایک مرتبہ کی فیس اس وقت 250 روپے مقرر ہے۔ یہ رقم الیکٹرانک ٹیگ کی تیاری یا خریداری، گاڑی کے شیشے پر اس کی تنصیب اور متعلقہ انتظامی اخراجات کی بنیاد پر وصول کی جاتی ہے۔ یہ فیس تنصیب کے وقت فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ذریعے لی جاتی ہے۔
موٹروے وار اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد لاہور موٹروے ایم ٹو پر ایم ٹیگ کی سب سے زیادہ 172 لینز موجود ہیں، جبکہ پنڈی بھٹیاں ملتان موٹروے ایم فور پر 154، پشاور اسلام آباد موٹروے ایم ون پر 138، ملتان سکھر موٹروے ایم فائیو پر 132 اور ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے ایم فورٹین پر 120 لینز قائم ہیں۔
اسی طرح کراچی حیدرآباد موٹروے ایم نائن پر 101، ہزارہ ایکسپریس وے ای تھرٹی فائیو پر 77، سیالکوٹ لاہور موٹروے ایم الیون پر 68 جبکہ لاہور عبدالحکیم موٹروے ایم تھری پر 48 ایم ٹیگ لینز موجود ہیں۔
یہ تفصیلات سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے سوال کے جواب میں سینیٹ میں پیش کی گئیں، جنہوں نے موٹرویز پر ایم ٹیگ لینز کی تعداد، ان سے حاصل ہونے والی آمدن، اس کے استعمال اور ایم ٹیگ فیس مقرر کرنے کے طریقہ کار سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔
Copied From: NHA collects Rs71.54 billion from six motorways as cash toll collection continues

