اسلام آباد: وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام پر غور سے پہلے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں، کیونکہ اصلاحات کا اصل مقصد شہریوں کو بہتر، تیز اور آسان خدمات ان کی دہلیز تک پہنچانا ہونا چاہیے۔
وہ اسلام آباد میں ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام ایک پالیسی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ ورکشاپ میں رکن قومی اسمبلی نور عالم خان، آسیہ اسحاق صدیقی، ظہور دھریجہ، سینئر صحافی محمد مالک اور لاہور کے سابق میئر میاں عامر محمود بھی شریک تھے۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ آبادی میں اضافہ اور شہروں کی وسعت زیادہ مؤثر طرزِ حکمرانی کا تقاضا کرتے ہیں، تاہم صرف نئے صوبے بنانا انتظامی مسائل کا حل نہیں۔ ان کے مطابق توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ سرکاری اداروں کو زیادہ جوابدہ، شفاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ تعلیم، صحت، پولیسنگ، اراضی ریکارڈ اور میونسپل سہولتوں جیسی بنیادی خدمات بہتر انداز میں فراہم ہو سکیں۔
آئین کے آرٹیکل 140 اے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورننس سے متعلق بہت سے مسائل مقامی حکومتوں کو مضبوط اور بااختیار بنا کر حل کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں مناسب مالی وسائل، انتظامی اختیار اور واضح ذمہ داریاں دی جائیں۔
پارلیمانی سیکریٹری نے زور دیا کہ نئے صوبوں سے متعلق کوئی بھی تجویز مکمل مالی اثرات کے جائزے کے بغیر آگے نہیں بڑھنی چاہیے، کیونکہ نئے صوبوں کے لیے اضافی انتظامی ڈھانچے درکار ہوں گے اور سرکاری اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کسی فیصلے سے پہلے پانچ سے دس سال پر محیط جامع مالی جائزہ ضروری ہے۔
بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی ایک نہایت سنجیدہ آئینی معاملہ ہے، جس کے لیے آئینی طریقہ کار پر عمل کے ساتھ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے بھی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے سے پہلے عوامی نمائندگی، وسائل کی تقسیم، پانی کی دستیابی، قدرتی وسائل اور سرکاری اثاثوں سمیت تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے انتظامی اصلاحات کے لیے تین نکاتی حکمتِ عملی بھی پیش کی۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں مقامی حکومتوں کو وسائل اور اختیار دے کر مضبوط کیا جائے، دوسرے مرحلے میں بڑے صوبوں کے اندر علاقائی انتظامیہ کو واضح کارکردگی اہداف کے ساتھ بااختیار بنایا جائے، اور تیسرے مرحلے میں نئے صوبوں پر صرف اسی صورت غور کیا جائے جب آئینی راستہ اختیار کیا جائے اور شواہد بہتر گورننس کے نتائج کی تائید کریں۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی اصل ضرورت محض نقشے بدلنا نہیں بلکہ مضبوط ادارے، بہتر حکمرانی اور عوام تک خدمات کی مؤثر فراہمی ہے۔
