البانیہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانا چاہتی ہے

newsdesk
3 Min Read
تیرانا میں بات چیت کے بعد البانیہ نے پاکستان کے امن کردار کو سراہتے ہوئے تجارتی تعاون اور سرکاری افسران کی تربیت میں شراکت کی خواہش ظاہر کی۔

تیرانا میں سات جون دو ہزار چوبیس کو ہونے والی ملاقات کے دوران البانیہ نے پاکستان کے امن کے کردار کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں توسیع اور خاص طور پر تجارتی تعاون اور سرکاری افسران کی تربیت میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔ تجارتی تعاون کے فروغ کو دونوں فریق اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے باہمی مفادات کے شعبوں میں نئے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔البانیہ کے وزیر برائے یورپ اور امور خارجہ فیرت ہوکشا نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزيد فروغ دینے، تجارت میں توسیع، سیاحت کی تشہیر اور البانیہ کے افسران کے لیے پاکستانی اعلیٰ تعلیمی و انتظامی تربیتی اداروں میں شمولیت کے امکانات پر زور دیا۔ تجارتی تعاون اور تربیتی روابط کو باقاعدہ بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔دونوں جانب سے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا جن میں وزارت خارجہ کے سینئر حکام کے درمیان مشاورتی عمل کا آغاز، اسلام آباد میں پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں شرکت کے مواقع، تجارتی نمائشوں کا انعقاد اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس ضمن میں پارلیمانی ارکان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی پاکستانی اداروں کے زیر اہتمام خصوصی تقاریب میں شرکت کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔تہسین سید، البانیہ کی اعزازی قونصل، نے البانیہ کی نجی شعبہ، علمی اور تحقیقی حلقوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں پاکستانی کاروباری، جامعات اور تحقیقی اداروں سے رابطے کے خواہشمند حلقوں کی واضح دلچسپی دیکھی گئی۔ کاروبار، تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں روابط کے ذریعے تجارتی تعاون کو گہرائی دینے کے امکانات پر زور دیا گیا۔تجارتی تعاون کے حوالے سے تہسین سید نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین بات چیت نے تعاون کے کئی عملی راستے کھولے ہیں اور موجودہ دور میں ایسے روابط کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اس وقت ایشیا کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے اور وہیں پیش کردہ تربیتی مواقع البانیہ کے افسران کے لیے قیمتی ثابت ہو سکتے ہیں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ البانیہ، جو یورپی یونین کی رکنیت کے راستے پر ہے، سیاحت، مستحکم معیشت اور سرمایہ کاری کے مواقع کے باعث یورپ میں ابھرتا ہوا متبادل مقام بن رہا ہے۔ دونوں فریق نے امن کے فروغ، یورپ اور ایشیا میں بین المذہبی ہم آہنگی اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پائیدار تعاون ممکن ہو سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے