اسلام آباد: ادارہ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سیکرٹری جنرل اسد مجید خان نے ’’ای سی او، علاقائی تعاون اور نئی جیو پولیٹیکل حرکیات‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس اہم تقریب میں ماہرین تعلیم، تھنک ٹینک کے ماہرین اور پالیسی سازوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر علاقائی تعاون، تجارت کے فروغ، توانائی میں شراکت داری اور جدید جغرافیائی تبدیلیوں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، سفیر سہیل محمود نے اپنے ابتدائی کلمات میں اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں اس وقت بڑی طاقتوں کے مابین مقابلے بازی اور عالمگیریت کے دباؤ کے باوجود علاقائی تعاون کے مواقع بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ای سی او خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے ایک کامیاب ماڈل بن سکتا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا کے لیے یہ ایک موثر مثال ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس سمپوزیم کے انعقاد کو بروقت قرار دیا، کیونکہ اسد مجید خان حال ہی میں آذربائیجان میں ہونے والی ای سی او سربراہی کانفرنس سے واپس آئے ہیں جہاں تجارتی، ڈیجیٹل، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
سفیر سہیل محمود نے مزید کہا کہ ای سی او ممالک کے درمیان باہمی تجارت 2021 کے مقابلے 2022 میں بڑھ کر 96.5 ارب ڈالر ہوگئی، تاہم یہ خطے کی مجموعی تجارت کا صرف 9.1 فیصد ہے، جس میں مزید اضافہ کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے خطے کو درپیش چیلنجز، سرحدی تنازعات، دہشت گردی، پابندیوں اور پاکستان و بھارت کے درمیان کشیدگی جیسے عوامل کا ذکر کیا جو علاقائی استحکام میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے حالیہ اسرائیل ایران تنازع کی وجہ سے تجارتی و توانائی روابط متاثر ہونے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امریکی ثالثی سے معاہدے سے جنوبی قفقاز میں نئے باہمی تجارت اور توانائی کے راستے کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے لیے ای سی او کے مستقبل کو موقع اور ذمہ داری دونوں قرار دیا۔ ان کے مطابق، مضبوط انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، توانائی کے شعبے میں شراکت داری اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو فروغ دینا پاکستان سمیت پورے خطے کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔
ای سی او کے سیکرٹری جنرل اسد مجید خان نے اپنی تقریر میں تنظیم کی تاریخی پس منظر اور ادارہ جاتی ترقی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کے ای سی او کے بانی رکن کے طور پر کلیدی کردار کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ای سی او کو مشترکہ ثقافتی، مذہبی اور معاشی رشتے جوڑتے ہیں اور تجارت اس کے مرکز میں ہے۔ انہوں نے ای سی او ٹریڈ معاہدہ (ایکوٹا) اور ویزا اسکیم کے حوالے سے مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ان چیلنجز کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اسد مجید خان نے موسمیاتی تبدیلی کو ای سی او ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور خصوصاً سیلاب و خشک سالی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے، متبادل توانائی اور آبی وسائل کے مشترکہ استعمال کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے توانائی رابطوں اور سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پربھی اظہار خیال کیا اور پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے حالیہ ای سی او سمٹ کو خطے کی ترقی، کنیکٹیویٹی اور پائیدار ترقی کے لیے سنگ میل قرار دیا اور اُمید ظاہر کی کہ ای سی او مضبوط ادارہ جاتی اصلاحات اور خطے کی یکجہتی سے اپنے بنیادی مشن کی تکمیل کر سکتے گی۔
سابق وزیر خارجہ عنام الحق نے بھی ای سی او کے ذریعے خطے میں تجارت و ترقی اور مل کر چلنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور پائیدار ترقی جیسے مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق، پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن اور موسمیاتی خطرات کے پیش نظر ای سی او میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخر میں، شرکاء نے علاقائی تجارت، سفارتی روابط، توانائی تعاون، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم اور نوجوانوں کے کردار سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی۔ چیئرمین آئی ایس ایس آئی خالد محمود نے شرکاء اور مقررین کا شکریہ ادا کیا اور مہمان خصوصی کو ادارے کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی۔
