پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعمیری مذاکرات

newsdesk
6 Min Read
انسٹی ٹیوٹس کے مشترکہ ویبینار میں پاکستان اور بنگلہ دیش تعلقات، تجارت، ماحولیاتی اور بحری تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

آئی ایس ایس آئی کے زیر اہتمام “بنگلہ دیش۔پاکستان مکالمہ: تعمیری روابط کے امکانات” پر بین الاقوامی ویبینار کا انعقاد

اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر نے اپنے شراکت دار ادارے بنگلہ دیش انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (BIISS) کے اشتراک سے ایک بین الاقوامی ویبینار کا انعقاد کیا۔ “بنگلہ دیش۔پاکستان مکالمہ: تعمیری روابط کے امکانات” کے عنوان سے منعقدہ اس ویبینار کا مقصد ڈھاکہ میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور خطے میں جاری جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر غور کرنا تھا۔

ویبینار کی مشترکہ صدارت سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی، اور میجر جنرل (ر) اے ایس ایم رضوان الرحمٰن، ڈائریکٹر جنرل بی آئی آئی ایس ایس، نے کی۔ اس موقع پر پالیسی ماہرین، سابق سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، کاروباری برادری کے نمائندوں اور محققین نے شرکت کی۔ مقررین میں سفیر بابر امین، پروفیسر ڈاکٹر معینس احمر، پروفیسر ڈاکٹر عرشی سلیم ہاشمی، ڈاکٹر عثمان شوکت، ڈاکٹر محفوظ کبیر، ڈاکٹر خرم عباس، ڈاکٹر صوفیہ خانم، راجہ عامر اقبال اور ڈاکٹر رضیہ سلطانہ شامل تھے۔

سفیر خالد محمود نے اپنے افتتاحی کلمات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی مثبت پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین تاریخی روابط، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی تعلقات پر زور دیا۔ انہوں نے معاشی اشتراک، ادارہ جاتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی جیسے علاقائی و عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے سارک کو علاقائی انضمام کے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر بحال کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

میجر جنرل (ر) رضوان الرحمٰن نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی باہمی انحصار کی صورتحال میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعمیری روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطہ سیاسی تنازعات اور تعاون کے فقدان کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت جیسے مسائل سے بھی دوچار ہے، لہٰذا عملی اور حقیقت پسندانہ تعاون کے راستے تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈاکٹر خرم عباس نے اپنے ابتدائی کلمات میں دونوں اداروں کی قیادت اور منتظمین کو اس بروقت اور اہم مکالمے کے انعقاد پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جو دونوں ممالک کو علامتی روابط سے آگے بڑھ کر حقیقی تعاون کی جانب لے جانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

تجارت اور معاشی تعاون کے حوالے سے ڈاکٹر عثمان شوکت، ڈاکٹر محفوظ کبیر اور راجہ عامر اقبال نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو آئندہ تین برسوں میں ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر تین ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم اس میں رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ ان میں سفری پابندیاں، سخت تجارتی ضوابط، پرانے مالیاتی نظام اور آزاد تجارتی معاہدوں (FTA) و ترجیحی تجارتی معاہدوں (PTA) کا فقدان شامل ہیں۔ ماہرین نے کاروباری روابط (B2B) کے فروغ، ویزا سہولت میں نرمی، مشترکہ اقتصادی زونز کے قیام، ڈیجیٹل تجارت اور برآمدی تنوع کو فروغ دینے کی تجاویز پیش کیں۔

سفیر بابر امین اور ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے علاقائی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے سارک کے احیاء کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان اور بنگلہ دیش، ایک آزاد خارجہ پالیسی کے فروغ کے خواہاں ہیں اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عرشی سلیم ہاشمی نے جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سیکیورٹی اور اسٹریٹجک ماحول کا جائزہ پیش کیا اور پاکستان۔بنگلہ دیش تعلقات میں حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو خطے میں توازن پیدا کرنے کا اہم عنصر قرار دیتے ہوئے پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کے درمیان سہ فریقی تعاون کی تجویز بھی پیش کی۔

پروفیسر ڈاکٹر معینس احمر نے عوامی سطح پر روابط کے فروغ کے لیے سفارشات پیش کیں، جن میں تعلیمی تبادلے، آن ارائیول ویزا، نئے قونصل خانوں کا قیام، سمندری روابط اور براہ راست فضائی پروازوں کا آغاز شامل ہے۔

ڈاکٹر صوفیہ خانم نے موسمیاتی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کی حکمت عملیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

ویبینار کے اختتام پر دونوں شریک چیئرمینز کی جانب سے اظہارِ تشکر کیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے