بیرسٹر دانیال چوہدری نے راولپنڈی چیمبر برائے تجارت و صنعت میں منعقدہ پہلی یادگاری تقریب مارکہِ حق 2025 میں کہا کہ آپریشن بن یان المرصوص نے پاکستان کو فوجی، سفارتی اور بیانیہ کے محاذ پر ایک موثر اور باوقار قوت کے طور پر ثابت کیا ہے اور مارکہِ حق کی کامیابی قوم کی سچائی، یکجہتی اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت اور منظم پروپیگنڈے کا سخت اور جامع جواب دیا۔ بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد ٹھکانے نشانہ بنا رہا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ عام شہری، خواتین اور بچے نشانہ بنے جو پاکستان کی حدود کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اس صورتحال کا جواب دیتے ہوئے ملکی دفاعی اداروں نے مناسب کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔بیرسٹر دانیال نے واضح کیا کہ آپریشن بن یان المرصوص کے ذریعے دشمن کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی برادری کے لیے پیغام تھا کہ پاکستان ذمہ دار مگر ناقابلِ لغزش دفاعی طاقت ہے۔ اس کارنامے میں مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے اسٹریٹجک وژن کو کلیدی حیثیت حاصل رہی۔انہوں نے زور دیا کہ مارکہِ حق محض فوجی فتح نہیں بلکہ جھوٹ اور منظم بداطلاعی کے مقابلے میں سچائی کی فتح بھی ہے۔ "پاکستان نے سچ کا انتخاب کیا اور یہی ہمارے کامیابی کی بنیاد بنی”، اس خیال کو انہوں نے خصوصاً اجاگر کیا اور کہا کہ یہی سچائی ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کرتی ہے۔بیرسٹر دانیال نے قوم کی طرف سے سیاسی اور مذہبی تفاوتوں سے بالاتر ہو کر مسلح افواج کے ساتھ یکجا ہونے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ فوج، بحریہ اور فضائیہ نے عوام کے ساتھ مل کر جو ردعمل دیا وہ آنے والے برسوں تک گونجے گا۔ انہوں نے شہداء کو قومی فخر اور غازیانِ وطن کو زندہ ہیرو قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سچائی، امن اور قومی سلامتی کے لیے ثابت قدم رہے گا۔تقریب میں راولپنڈی چیمبر کے صدر عثمان شوکت، تحریکِ جوانانِ پاکستان کے چیرمین محمد عبد اللہ حمید گل، چیمبر گروپ لیڈر سہیل الطاف اور دیگر معروف شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے اس موقع پر مسلح افواج اور قوم کے مشترکہ عزم پر اظہارِ خیال کیا۔
