راولپنڈی کے یو سی 45 میں صفائی کی ابتر صورت حال پر شہریوں کی تشویش

newsdesk
3 Min Read
چمن زار کالونی اور آریہ محلہ کے مکینوں نے کچرے اور بند نالیوں کے باعث مشکلات کی شکایت کی ہے۔

راولپنڈی، 6 نومبر: مری روڈ کے ساتھ واقع یونین کونسل 45 کے علاقوں چمن زار کالونی اور آریہ محلہ کے مکین صفائی ستھرائی کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ شہریوں کے مطابق کھلے پلاٹوں اور نالہ لئی کے اطراف کچرا موجود ہے، جبکہ اس سلسلے میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کو بارہا شکایات بھی کی جا چکی ہیں۔

پاکستان سٹیزن رائٹس موومنٹ (پی سی آر ایم) کے چیئرمین ظہیر احمد اعوان نے علاقے کے دورے کے دوران صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات پر بڑی مقدار میں کوڑا کرکٹ جمع ہو چکا ہے، جس سے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور عوامی صحت کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

ظہیر احمد اعوان کے مطابق ان کی تنظیم نے ستھرا پنجاب اتھارٹی کو 10 مختلف مقامات کی گوگل پن لوکیشنز، ویڈیوز، تصاویر اور شکایات ارسال کیں، تاہم ان کے دعوے کے مطابق کچرا تاحال نہیں اٹھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بند نالیاں اور کھلی گزرگاہیں بھی مسئلہ بنی ہوئی ہیں، جہاں کھڑا گندا پانی بدبو پھیلا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے مچھروں کی افزائش اور ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ظہیر احمد اعوان نے مزید کہا کہ رہائشی فیلڈ افسران کی کارکردگی اور صفائی کے کام کے لیے مختص گاڑیوں اور دیگر وسائل کے استعمال کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی حوالہ دیا کہ بعض شکایات کے مطابق کچرے کو باقاعدہ اٹھانے اور منتقل کرنے کے بجائے جلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کھلے پلاٹوں اور نالہ لئی کے اطراف موجود کچرا فوری طور پر صاف کیا جائے، بند نالیوں کی صفائی کی جائے اور ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

پی سی آر ایم کے چیئرمین نے آپریشنل افسران کی تعلیمی و تکنیکی اہلیت اور کارکردگی کے جائزے، صفائی کی مشینری کی مرمت اور جہاں غفلت ثابت ہو وہاں کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

ظہیر احمد اعوان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو بھی صفائی مہم میں تعاون کرتے ہوئے کچرا مقررہ ڈبوں میں ڈالنا چاہیے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عوامی تعاون سرکاری محکموں کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتا کہ وہ صفائی کی مناسب سہولیات فراہم کریں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورت حال کو فوری طور پر بہتر نہ بنایا گیا تو ان کی تنظیم ستھرا پنجاب اتھارٹی کے خلاف احتجاج پر غور کرے گی۔

واضح رہے کہ شکایات اور الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ فراہم کردہ معلومات میں اتھارٹی کا مؤقف شامل نہیں تھا۔

Share This Article