کراچی: پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) اور ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائیگنوسٹک سینٹر کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے، جس کے تحت ایسوسی ایشن کے اہل اراکین کو صحت اور تشخیصی خدمات کی وسیع رینج پر خصوصی رعایت فراہم کی جائے گی۔
معاہدے کا مقصد ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی فری لانس کمیونٹی کے لیے کم خرچ طبی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانا ہے۔ فری لانسرز عموماً ان طبی مراعات اور ہیلتھ کوریج سے محروم رہتے ہیں جو باضابطہ کارپوریٹ شعبے کے ملازمین کو دستیاب ہوتی ہیں۔
مفاہمتی یادداشت پر پیفلا کی چیف گروتھ اینڈ اسٹریٹجی فرہین فاطمہ اور ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائیگنوسٹک سینٹر کی ڈائریکٹر حنا فرحان عیسیٰ عابدین نے دستخط کیے۔
شراکت داری کے تحت پیفلا کے اہل اراکین کو معمول کے لیبارٹری ٹیسٹوں پر 35 فیصد رعایت ملے گی۔ اس کے علاوہ اسپیشلائزڈ ٹیسٹ، ڈائیگنوسٹک امیجنگ، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ، فزیوتھراپی، دندان سازی اور دیگر طبی خدمات پر بھی خصوصی ڈسکاؤنٹ فراہم کیا جائے گا۔
یہ اقدام پیفلا کی ان وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک بھر کے فری لانسرز اور ڈیجیٹل ورکرز کو سماجی تحفظ، فلاحی فوائد اور سہولت کاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر پیفلا کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسنگ دنیا بھر میں روزگار کا ایک تیزی سے مقبول ذریعہ بن رہی ہے، خصوصاً پاکستان میں باصلاحیت اور ہنرمند افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد آزاد ڈیجیٹل کام کو اپنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں بڑھتے ہوئے کردار کے باوجود بہت سے فری لانسرز بنیادی سہولتوں، بالخصوص صحت اور میڈیکل کوریج سے محروم ہیں، جو عموماً اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو میسر ہوتی ہیں۔
ابراہیم امین کے مطابق فری لانسرز پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا اہم حصہ ہیں، تاہم ان کی بڑی تعداد کو وہ سماجی تحفظ اور صحت کی سہولتیں حاصل نہیں جو تنخواہ دار ملازمین کو دستیاب ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیفلا فری لانس کمیونٹی کے لیے بامعنی فوائد اور مواقع پر مشتمل سپورٹ نیٹ ورک بنا کر اس خلا کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسوسی ایشن صحت کی سہولتوں، مالیاتی خدمات، پیشہ ورانہ ترقی اور دیگر معاون اقدامات تک رسائی آسان بنا کر فری لانسرز کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ابراہیم امین نے ملک بھر کے فری لانسرز پر زور دیا کہ وہ پیفلا کی رکنیت حاصل کریں اور اس کی بڑھتی ہوئی خدمات، شراکت داریوں اور مراعات سے فائدہ اٹھائیں، جن کا مقصد انہیں بہتر مالی تحفظ اور بہتر معیار زندگی کے حصول میں مدد دینا ہے۔
اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ کل وقتی اور جز وقتی فری لانسرز موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان دنیا میں فری لانسرز کی آبادی کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فری لانسرز نے رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 549 ملین ڈالر کمائے۔
