اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم اور کیئر 1166 پورٹل کا افتتاح کرتے ہوئے اسے وزارتِ صحت کی تاریخ کا اہم منصوبہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کے تحت شہری صحت سے متعلق شکایات براہِ راست 1166 پر کال کر کے درج کرا سکیں گے اور انہیں مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس نظام کا بنیادی مقصد عوام، خصوصاً خواتین، غریب، محروم طبقات اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کو ایسا آسان راستہ فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تکلیف میں مبتلا شہری گھر بیٹھے اپنی شکایت درج کرا سکے گا اور شکایت خودکار نظام کے ذریعے متعلقہ افسر یا محکمہ صحت کو بھجوا دی جائے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق شکایت کے اندراج سے لے کر اس کے ازالے تک تمام مراحل کی باقاعدہ نگرانی ہوگی۔ ہر شکایت کی ذمہ دار افسر کو منتقلی، اس پر ہونے والی کارروائی اور پیش رفت کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک مرکزی ڈیش بورڈ قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے وزیرِ صحت اپنے دفتر میں بیٹھ کر شکایات اور ان پر پیش رفت کا جائزہ لے سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے نظام میں ہر شکایت کنندہ کو ایک منفرد ڈیجیٹل ٹریکنگ نمبر دیا جائے گا، جس کی مدد سے شہری دو دن، چار دن، ایک ماہ یا ایک سال بعد بھی اپنی شکایت کی صورتحال معلوم کر سکے گا۔ وزارتِ صحت کے 39 متعلقہ شعبوں کے سربراہان کو موبائل ایپلی کیشن اور دفاتر میں نصب اسکرینز کے ذریعے شکایات تک رئیل ٹائم رسائی حاصل ہوگی۔ جیسے ہی کال سینٹر کا ایجنٹ شہری کی کال مکمل کرے گا، شکایت متعلقہ ذمہ دار افسر کی اسکرین پر ظاہر ہو جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ محض شکایات درج کرنے کا نظام نہیں بلکہ مانیٹرنگ، فالو اَپ اور احتساب کا مکمل میکنزم ہے۔ وزارتِ صحت کو ہسپتالوں میں شہری شکایات اور سروس ڈلیوری کی براہِ راست نگرانی میں مدد ملے گی، جبکہ شکایات کی تعداد، نوعیت اور ازالے کی پیش رفت کا مؤثر جائزہ بھی لیا جا سکے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نظام کا پہلا مرحلہ اسلام آباد سے شروع کیا جا رہا ہے، جہاں شہری سرکاری ہسپتالوں، ڈسپنسریوں، وزارتِ صحت اور اس کے ماتحت اداروں سے متعلق شکایات درج کرا سکیں گے۔ ہر شکایت کے ازالے کے لیے متعلقہ ہسپتال میں نامزد ذمہ دار افسر مقرر کیا جائے گا، جبکہ ہسپتالوں کی شکایات کا مرکزی اور قابلِ سراغ ریکارڈ بھی مرتب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کال سینٹر چوبیس گھنٹے اور تین شفٹوں میں کام کرے گا، کیونکہ بیماری اور تکلیف کسی دفتری وقت کی پابند نہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کال سینٹر کے عملے کو ہدایت کی کہ وہ شہریوں کی بات احترام، توجہ اور خندہ پیشانی سے سنیں، کیونکہ فون کرنے والا شخص عموماً کسی پریشانی یا تکلیف میں ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 40 کروڑ روپے کا ہے اور اگلے مرحلے میں اسے پورے ملک تک وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تھر جیسے کسی دور افتادہ علاقے کا شہری صحت کی سہولت سے متعلق مسئلہ درپیش ہونے پر متعلقہ حکام تک رسائی نہیں رکھتا تو وہ 1166 پر کال کر کے شکایت درج کرا سکے گا، جسے ضلعی اور صوبائی سطح کے ذمہ داران تک پہنچایا جا سکے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مرکزی ڈیش بورڈ سے مختلف علاقوں میں بیماریوں اور صحت کے مسائل کی نشاندہی بھی ممکن ہوگی۔ اگر کسی مخصوص علاقے سے ایک ہی نوعیت کی شکایات یا کالز میں اچانک اضافہ ہو تو یہ کسی وبا یا صحت کے سنگین مسئلے کی ابتدائی علامت بن سکتا ہے، جس پر حکومت بروقت اقدامات کر سکے گی۔
انہوں نے اسے ایک خاموش انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے ذریعے وزارتِ صحت عوام کے سامنے اپنی جواب دہی خود قائم کر رہی ہے۔ اب وزارت کی کارکردگی دعوؤں کے بجائے ڈیجیٹل ریکارڈ، حقیقی اعداد و شمار، شکایات کی نوعیت، متعلقہ افسران اور کارروائی کی تفصیلات سے دیکھی جا سکے گی۔
وفاقی وزیر نے چیئرمین پی ٹی اے، آئی بی ایکس، وزارتِ صحت کی ٹیم، جوائنٹ سیکریٹری ایڈمن، متعلقہ حکام، یونیسف اور معاون اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم عوام کو آواز، حکومت کو جواب دہی اور صحت کے نظام کو شفافیت فراہم کرنے کی عملی کوشش ہے۔
