اسلام آباد: عالمی جامعات کی درجہ بندیوں میں پاکستانی جامعات کی تعداد نمایاں طور پر بڑھنے کے باوجود دنیا کی بہترین 500 جامعات میں پاکستان کی صرف دو جامعات جگہ بنا سکیں، جبکہ فنڈز کی کمی، کمزور عالمی روابط اور صنعت کے ساتھ محدود تعاون اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں قرار دی گئی ہیں۔
یہ اعداد و شمار ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے 3 نومبر 2026 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو بریفنگ کے دوران پیش کیے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بین الاقوامی درجہ بندیوں میں پاکستان کی نمائندگی میں بڑا اضافہ ہوا ہے، تاہم ایچ ای سی چیئرمین نے تسلیم کیا کہ جامعات کو مالی مشکلات، عالمی سطح پر محدود شناخت اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرنے میں رکاوٹوں جیسے سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق کیو ایس ایشیا یونیورسٹی رینکنگز میں پاکستانی جامعات کی تعداد 2020 میں 29 تھی جو 2026 میں بڑھ کر 83 ہوگئی۔ اسی طرح ٹائمز ہائر ایجوکیشن ایشیا رینکنگز میں پاکستان کی نمائندگی 2020 میں 14 جامعات سے بڑھ کر 2026 میں 48 جامعات تک پہنچ گئی۔
عالمی سطح پر ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز میں شامل پاکستانی جامعات کی تعداد 2020 میں 14 تھی جو 2027 میں 56 تک پہنچ گئی۔ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز میں پاکستانی جامعات کی تعداد 2020 میں سات سے بڑھ کر 2027 میں 18 ہوگئی۔
اس پیش رفت کے باوجود کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز 2027 میں دنیا کی ٹاپ 500 جامعات میں پاکستان کی صرف دو جامعات شامل ہوئیں۔ اسی رینکنگ میں 12 پاکستانی جامعات ٹاپ 1000 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز 2026 میں 22 پاکستانی جامعات ٹاپ 1000 میں شامل ہوئیں۔
یہ صورتحال اس اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ بین الاقوامی درجہ بندیوں میں جامعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کیا واقعی تدریس کے معیار، مضبوط تحقیق اور گریجویٹس کے لیے بہتر روزگار کے مواقع میں تبدیل ہو رہی ہے یا نہیں۔
ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کمیٹی کو بتایا کہ درجہ بندیاں اس لیے اہم ہیں کہ یہ جامعات کی عالمی ساکھ، تحقیقی کارکردگی، گریجویٹس کے روزگار کے امکانات اور دنیا بھر کے اداروں سے روابط کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ رینکنگ بہتر بنانا ہی واحد مقصد نہیں ہونا چاہیے، اصل ہدف تعلیمی معیار، جامعاتی کارکردگی اور بین الاقوامی مسابقت میں پائیدار بہتری ہونا چاہیے۔
ایچ ای سی چیئرمین نے مالی اور بجٹ کی کمی کو بڑا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے عالمی تعلقات سے وابستہ رکاوٹوں، بیرون ملک پاکستانی اداروں کی محدود پہچان اور جامعات و صنعت کے درمیان کمزور تعاون کی بھی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق بین الاقوامی رینکنگ نظام تحقیق، روزگار کے نتائج، تعلیم کے معیار، عالمی روابط اور پائیداری سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کے پاس مضبوط انسانی وسائل موجود ہیں، مگر مالی پابندیاں جامعات کے لیے ان شعبوں میں بہتری کو مشکل بناتی ہیں۔
مسئلے کے حل کے لیے ایچ ای سی نے بین الاقوامی یونیورسٹی رینکنگز سے متعلق ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ اس کمیٹی کی ذمہ داری مربوط قومی منصوبہ تیار کرنا، جامعات کو رینکنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا اور ان کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد دینا ہے جن میں بہتری کی ضرورت ہے۔
چیئرمین نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کے اہم شعبوں کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی سفارشات دینے کے لیے تقریباً 20 ٹاسک فورسز تشکیل دی گئی ہیں۔
ایچ ای سی انڈرگریجویٹ تعلیم، سرحد پار تعلیم، لبرل آرٹس، ڈوئل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز، کمپیوٹنگ ایجوکیشن، نصابی تبدیلیوں اور تعلیمی پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق پالیسیوں کا جائزہ لے رہا ہے اور نئی پالیسیوں پر کام کر رہا ہے۔
بریفنگ میں وظائف اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ ایچ ای سی نے پاک امریکا نالج کوریڈور، فل برائٹ اور ڈی اے اے ڈی اسکالرشپس، قائداعظم میموریل اسکالرشپس اور اسٹیپینڈیم ہنگریکم پروگرام سمیت مختلف منصوبوں کا ذکر کیا۔
کمیشن نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے علامہ اقبال اسکالرشپس، چینی جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعلیمی شراکت داریوں اور گلوبل اسکالر نیٹ ورک پورٹل کا بھی حوالہ دیا۔ اس پورٹل کا مقصد بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی اسکالرز کو پاکستان کی جامعات، اساتذہ اور محققین سے جوڑنا ہے۔
فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ایچ ای سی نے بتایا کہ سرکاری اور نجی جامعات کے اساتذہ اور انتظامی عملے کے لیے مصنوعی ذہانت کی مفت تربیت شروع کی گئی ہے۔
چیئرمین نے وزارت خارجہ اور انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن کے تعاون سے تیار کیے گئے آن لائن اور پیپر لیس ڈگری تصدیق نظام کے اجرا کو بھی اجاگر کیا۔

