ڈیٹا قومی اثاثہ، درست استعمال سے معیشت کو تقویت مل سکتی ہے: ڈاکٹر سہیل منیر

newsdesk
4 Min Read
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کو پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی پر بریفنگ دی گئی۔

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین سید امین الحق، ایم این اے، نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے دوران پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی مختصر مدت میں کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیا۔

اجلاس میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر سہیل منیر نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر اراکین قومی اسمبلی آسیہ اسحاق، پلین بلوچ، عمار لغاری، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہیش کمار، عتیق انور اور احمد سلیم صدیقی نے اتھارٹی کے کردار، آئی ٹی آگاہی اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے فروغ سے متعلق سوالات کیے۔

ڈاکٹر سہیل منیر نے کمیٹی کو ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل گورننس کے حوالے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان اقدامات سے شہریوں اور کاروباری اداروں کو کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 پر بھی روشنی ڈالی اور پالیسی سازی میں درست اور باخبر فیصلوں کے لیے ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

چیئرپرسن پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے کہا کہ اگر ڈیٹا کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ جی ڈی پی میں 2 فیصد اضافہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ڈیٹا ایک قومی اثاثہ ہے، جس کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈیٹا ریگولیٹر کے طور پر کام کر رہی ہے۔

ڈاکٹر سہیل منیر نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے اپنے خطرات ہیں، کیونکہ ایک ہی سوال پر مختلف ماڈلز مختلف جوابات دیتے ہیں۔ آج شہری یہ اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں، اس لیے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قومی ڈیجیٹل کمیشن قومی ہم آہنگی کے لیے اعلیٰ ترین ادارہ ہے، کیونکہ عملدرآمد صوبوں کے اختیار میں ہے۔ ان کے مطابق ڈیٹا اور ڈیجیٹل تعاون کے معاملے پر مختلف محکموں اور بین الصوبائی سطح پر رکاوٹیں موجود ہیں۔

ڈاکٹر سہیل منیر نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق ایسی انتظامی رکاوٹوں کی لاگت جی ڈی پی کے 39 فیصد کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے طریقہ کار کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کرنا مقصد ہے، جس سے پانچ سال میں 60 سے 80 ارب ڈالر کا ممکنہ موقع پیدا ہو سکتا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان میں 15 شعبے شامل ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک مربوط اور مشترکہ میکانزم تیار کر رہی ہے تاکہ گورننس کا معیاری ڈیجیٹل فارمیٹ تشکیل دیا جا سکے۔

رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی کوششوں کو سراہا اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ ڈیٹا ملک سے باہر منتقل نہ ہو۔

اس پر ڈاکٹر سہیل منیر نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نہ صرف ضوابط، معیارات اور عملدرآمد کے رہنما خطوط تیار کر رہی ہے بلکہ پاکستان کی قومی ڈیٹا ایکسچینج لیئر ’’وصل‘‘ بھی قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ڈیٹا محفوظ طریقے سے اور صرف شہریوں اور ڈیٹا مالکان کی رضامندی سے شیئر کیا جائے۔

Share This Article