سجاول، 30 اکتوبر 2026ء: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے اشتراک سے گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی کے تعاون سے جاری منصوبے ’’پروموشن اینڈ ایپلی کیشن آف سسٹین ایبل بایوماس انرجی ٹیکنالوجیز اِن پاکستان‘‘ (PASBET) کے تحت ضلع سجاول، سندھ میں پاکستان کے پہلے بایوماس انرجی نمائشی پلانٹ کا افتتاح کر دیا۔ یہ پلانٹ یو این ڈی پی اور حکومتِ سندھ نے مشترکہ طور پر شروع کیا ہے۔
پانچ سالہ PASBET منصوبے کی مالیت 35 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ اس کا مقصد پائیدار بایوماس توانائی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا، دیہی روزگار و معاش کو سہارا دینا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا اور سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جنگلاتی وسائل پر دباؤ کم کرنا ہے۔ سجاول کا یہ پلانٹ اس اقدام کے تحت قائم کیے جانے والے چار نمائشی مقامات میں پہلا ہے، جہاں لکڑی کے بایوماس پر مبنی قابلِ توسیع توانائی ٹیکنالوجیز کو دکھایا جائے گا۔
یہ پلانٹ پنّاہ ریزروڈ فاریسٹ میں قائم کیا گیا ہے۔ یہاں جنگلاتی، غیر جنگلاتی اور زرعی باقیات، جن میں تراشی گئی شاخیں، چاول کا بھوسہ اور کپاس کی ڈنٹھل شامل ہیں، کو ایندھن کے پیلٹس میں تبدیل کیا جائے گا۔ یہ پیلٹس چولہوں میں استعمال ہوں گے، دیہی توانائی کی دیگر ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں گے اور پائیدار جنگلاتی انتظام کو فروغ دیں گے۔
یو این ڈی پی پاکستان کے ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک نے کہا کہ پاکستان کو دیہی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور اپنے جنگلات کے تحفظ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق یہ پلانٹ ظاہر کرتا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب باقیات کو صاف تر ایندھن، مقامی مواقع اور زیادہ پائیدار توانائی ماڈل میں بدلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اصل کام اس ماڈل کو وسیع پیمانے پر قابلِ عمل بنانا ہے، جس میں کمیونٹیز، حکومت اور منڈیاں مل کر آگے بڑھیں۔
افتتاح کے موقع پر مقامی گھرانوں میں بایوماس پیلٹس پر چلنے والے 130 کم ایندھن خرچ کرنے والے چولہے تقسیم کیے گئے۔ اس کے ساتھ کمیونٹی گروپس کو 20 نرسری ٹول کٹس بھی فراہم کی گئیں۔ یہ چولہے روایتی لکڑی پر مبنی پکانے کے طریقوں کا متبادل فراہم کرتے ہیں، جبکہ ٹول کٹس وقت کے ساتھ پائیدار بایوماس وسائل کی تیاری میں کمیونٹی کوششوں کو سہارا دیں گی۔
منصوبے میں کمیونٹی کی شمولیت اور خواتین کی شرکت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ محمد حسن جاکھرو گاؤں کی کمیونٹی تنظیم ’’روشنی تنظیم‘‘ نے کمیونٹی رابطہ کاری، چولہے حاصل کرنے والوں کے انتخاب اور نرسری کی ترقی میں معاونت کی۔ PASBET مقامی مہارتوں کو بھی مضبوط کرے گا اور بایوماس ویلیو چین میں روزگار کے مواقع کا جائزہ لے گا، جن میں بایوماس کی تیاری، پیلٹس کی ہینڈلنگ، نقل و حمل، فروخت اور پلانٹ آپریشنز شامل ہیں۔
حکومتِ سندھ کے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر محمد ریاض واگن نے کہا کہ پنّاہ ریزروڈ فاریسٹ یہ دکھاتا ہے کہ جنگلاتی اور زرعی باقیات پیلٹ پیداوار، کمیونٹی نرسریوں اور مؤثر چولہوں کے ذریعے روزگار پیدا کر سکتی ہیں، پائیدار جنگلاتی انتظام میں مدد دے سکتی ہیں اور مقامی شجرکاری کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ یو این ڈی پی۔PASBET کے اس پہلے نمائشی پلانٹ کا خیر مقدم کرتی ہے اور سجاول میں کمیونٹی شمولیت اور باقیات کے انتظام سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر صوبے بھر میں صاف تر دیہی توانائی اور صحت مند جنگلات کے فروغ کے لیے کام آگے بڑھائے گی۔
