پاکستان ریلویز کے مقدمات کی فہرست میں 555 کی کمی، سینیٹ کمیٹی برہم

6 Min Read
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے پاکستان ریلویز سے زیر التوا مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے پاکستان ریلویز کے قانونی ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں، کمیٹی کو پیش کی گئی فہرست میں 555 مقدمات کی کمی اور چوری، خرد برد اور غبن سے متعلق کیسز کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ مطلوبہ معلومات فراہم نہ کی گئیں تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد کے اولڈ پیپس ہال میں سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پاکستان ریلویز کے قانونی شعبے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی نے سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا واضح اور مکمل ریکارڈ طلب کیا۔

اجلاس کے دوران چیئرمین نے کہا کہ کمیٹی کو دی گئی سابقہ بریفنگ کے مقابلے میں تازہ فہرست میں مقدمات کی تعداد میں 555 کی کمی ظاہر ہو رہی ہے، وزارت اس فرق کی وضاحت کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر مقدمے کا باقاعدہ اندراج اور پیروی ہونی چاہیے، مقدمات کو بغیر نگرانی کے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

چیئرمین نے نشاندہی کی کہ کمیٹی پہلے بھی چوری، خرد برد اور غبن کے مقدمات کی تفصیل مانگ چکی ہے، مگر وزارت نے ایف آئی آرز کے اندراج سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

سینیٹر کامل علی آغا نے تمام زیر التوا مقدمات کے بارے میں مکمل اور تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزارت کو ہدایت کی کہ ہر عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد، موجودہ حیثیت اور ہر معاملے میں تازہ پیش رفت کی تفصیلی درجہ بندی فراہم کی جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان ریلویز کو اپنے عدالتی مقدمات اور وکلا کے کام کی نگرانی کے لیے باقاعدہ نظام قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک نامزد افسر مقرر کیا جائے جو ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھے اور پیش رفت سے وزارت اور کمیٹی کو باقاعدگی سے آگاہ کرے۔

انہوں نے کمیٹی کو جمع کرائے گئے نامکمل ورکنگ پیپرز پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسی خامیاں ممکنہ نااہلی یا مناسب جانچ پڑتال کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کمیٹی بار بار سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں میں موجود مقدمات کی تفصیل مانگتی رہی، مگر مطلوبہ ریکارڈ اب تک فراہم نہیں کیا گیا۔

چیئرمین نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ حکام نے طلب کردہ ریکارڈ فراہم نہ کیا تو ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

کمیٹی نے پاکستان ریلویز میں قانونی مشیروں کی تعیناتی اور خصوصی فیسوں کی ادائیگی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ چیئرمین نے کہا کہ محکمے کے پاس سول مقدمات کے لیے تقریباً 325 وکلا کا پینل پہلے سے موجود ہے، اس کے باوجود اضافی وکلا کی خدمات حاصل کرنے کے لیے واضح وجوہات اور شفاف طریقہ کار ضروری ہے۔

انہوں نے ملک بھر میں کام کرنے والے پراسیکیوٹنگ انسپکٹرز کی مجموعی تعداد کے بارے میں بھی استفسار کیا۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ محکمے نے ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضوں سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے میں قائمہ کمیٹی کی معاونت اور رہنمائی کا بھی اعتراف کیا۔

تاہم کمیٹی نے سکھر اور لاڑکانہ میں ریلوے پولیس کی سرگرمیوں سے متعلق شکایات پر تشویش ظاہر کی۔ چیئرمین نے سکھر کے میئر بیرسٹر ارسلان شیخ اور لاڑکانہ کے رکن صوبائی اسمبلی جمیل احمد سومرو کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا حوالہ دیا، جن کے مطابق ریلوے پولیس کچی آبادیوں اور صوبائی اراضی پر رہنے والے لوگوں کو پریشان کر رہی ہے، حالانکہ وہ اراضی پاکستان ریلویز کی ملکیت نہیں۔

چیئرمین نے کہا کہ غیر قانونی قبضے کے خلاف کارروائی سے پہلے ریلوے اراضی کی واضح حد بندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ درست نشاندہی کے بغیر کارروائی سے صوبائی زمین پر رہنے والوں کے خلاف اقدام ہو سکتا ہے اور صوبائی و وفاقی حکومتوں کے درمیان غیر ضروری قانونی تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وزیر ریلوے اور چیئرمین ریلویز سکھر کے میئر اور لاڑکانہ کے رکن صوبائی اسمبلی سے رابطہ کر کے معاملہ حل کر سکتے ہیں۔ چیئرمین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارت قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرے۔

کمیٹی نے 6 اکتوبر 2026 کو ہونے والے سابقہ اجلاس کی سفارشات پر وزارت کی عمل درآمد رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں پاکستان ریلویز کے ذریعے صحافیوں کو دستیاب موجودہ سفری رعایتی سہولت پر بھی بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی نے توقع ظاہر کی کہ صحافیوں کو موجودہ پالیسی کے تحت تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے سکھر میں گڈانی پل سے متعلق ایک اضافی معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے وزارت کو ہدایت کی کہ پل کی تعمیر میں میونسپل حکومت کی مدد کی جائے اور اگر ضرورت ہو تو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ، یعنی این او سی، جاری کیا جائے۔

ندیم تنولی

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔