اکاؤنٹنسی میں مصنوعی ذہانت سب سے بڑا اخلاقی امتحان بن کر ابھری، ACCA

newsdesk
5 Min Read
ACCA کی 2026 رپورٹ میں AI، اخلاقی قیادت اور اخلاقی ثقافت کو اکاؤنٹنسی کے نمایاں چیلنجز قرار دیا گیا۔

اسلام آباد/کراچی، 22 اکتوبر 2026: گلوبل ایتھکس ڈے، جو 21 اکتوبر کو منایا گیا، کے تناظر میں ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) کی تازہ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکاؤنٹنسی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال نمایاں طور پر سب سے بڑا اخلاقی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

ACCA کے مطابق 61 فیصد جواب دہندگان نے AI کے استعمال کو اپنا سب سے بڑا اخلاقی چیلنج قرار دیا، جبکہ 2024 کے سروے میں یہ شرح 32 فیصد تھی۔

’’Navigating ethics for trust‘‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق اخلاقی قیادت 43 فیصد اور اخلاقی ثقافت 39 فیصد کے ساتھ جواب دہندگان کے تین بڑے اخلاقی چیلنجز میں شامل رہیں۔ 2026 کے سروے میں 135 ممالک سے فنانس اور اکاؤنٹنسی کے شعبوں سے وابستہ 1,178 پیشہ ور افراد کی آرا شامل کی گئیں، جبکہ گول میز مباحثوں نے رپورٹ کو مزید معیاری تناظر فراہم کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکاؤنٹنسی کا شعبہ بنیادی اصولوں سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے، تاہم عملی ماحول زیادہ دباؤ، پیچیدگی اور مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ سروے کے 50 فیصد شرکا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ گزشتہ تین برسوں میں اخلاقی چیلنجز کو حل کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے، جبکہ 53 فیصد نے اسی مدت کے دوران غیر اخلاقی رویے دیکھنے کی اطلاع دی۔

ACCA کی ہیڈ آف ایتھکس اینڈ ایشورنس سارہ لین نے کہا کہ مجموعی تصویر ایک ایسے پیشے کی ہے جو اخلاقی بنیادوں پر قائم، خود آگاہ اور تبدیلی کے لیے آمادہ ہے۔ ان کے مطابق فنانس پروفیشنلز مزید قواعد کا مطالبہ نہیں کر رہے، کیونکہ بنیادی اصول ہی اخلاقی سمت فراہم کرتے ہیں۔ وہ ایسے آلات، معاونت اور رہنمائی چاہتے ہیں جن کی مدد سے تیزی سے پیچیدہ ہوتی دنیا میں ان اصولوں کو مؤثر طور پر لاگو کیا جا سکے۔

پاکستان میں ACCA کے سربراہ اسد حمید خان نے کہا کہ جیسے جیسے AI کاروبار اور فنانس میں زیادہ شامل ہو رہا ہے، اس کا استعمال انہی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے جو اکاؤنٹنسی کے پیشے میں اعتماد کی بنیاد ہیں: دیانت داری، معروضیت، پیشہ ورانہ قابلیت، رازداری اور پیشہ ورانہ طرز عمل۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فنانس پروفیشنلز کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ درست پیشہ ورانہ فیصلہ سازی کریں، AI سے حاصل ہونے والے نتائج پر سوال اٹھائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جواب دہی واضح رہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اخلاقی قیادت، معاون تنظیمی ثقافت اور مسلسل سیکھنے کا عمل ضروری ہوگا۔

رپورٹ میں ایک ٹول کٹ بھی شامل ہے جس میں انٹرنیشنل کوڈ آف ایتھکس فار پروفیشنل اکاؤنٹنٹس (IEBSA Code) کو حقیقی حالات میں لاگو کرنے کے لیے 10 مراحل پر مشتمل عملی طریقہ کار دیا گیا ہے۔

سروے کے دیگر اہم نتائج کے مطابق 89 فیصد جواب دہندگان اس بات سے متفق ہیں کہ پیشے میں اخلاقی صلاحیت مضبوط ہے، تاہم اس کا انحصار مسلسل پیشہ ورانہ ترقی پر ہے۔ پیشے پر اعتماد کی بنیاد مضبوط اخلاقی معیارات 46 فیصد، شفافیت 38 فیصد اور آزادی 36 فیصد بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق عملی زندگی میں اخلاقی رویے کو ممکن بنانا مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں اخلاقی ثقافت اور قیادت بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سروے میں اخلاقی قیادت اور اخلاقی ثقافت 2024 اور 2026 دونوں میں بڑے اخلاقی چیلنجز میں شامل رہیں۔

سارہ لین نے مزید کہا کہ اخلاقیات ہمیشہ ACCA Qualification کا مرکزی حصہ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال متعارف کرائی جانے والی دوبارہ ترتیب دی گئی کوالیفکیشن میں اخلاقیات کو مزید مربوط انداز میں شامل کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلیں ابھرتے ہوئے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔

رپورٹ اور ٹول کٹ ACCA کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں: https://www.accaglobal.com/policy-and-insights/reports/2026/navigating-ethics-for-trust.html

Share This Article