’مجبور‘ کا نیا سفر: لوسٹ فریکوئنسیز نے پاکستانی ہٹ کو عالمی الیکٹرانک رنگ دے دیا

newsdesk
6 Min Read
’Majboor – Lost Frequencies Remix‘ شہریار ریحان، زوہا وسیم اور لوسٹ فریکوئنسیز کا باضابطہ اشتراک ہے۔

پاکستان، 22 اکتوبر 2026 — پاکستانی گیت ’مجبور‘، جسے شہریار ریحان اور زوہا وسیم نے پیش کیا، اب ایک نئے عالمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ بیلجین ڈی جے اور پروڈیوسر لوسٹ فریکوئنسیز نے اس گانے کا باضابطہ ریمکس جاری کیا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی پاپ اور الیکٹرانک موسیقی کے دو مختلف جہان ایک ساتھ آ گئے ہیں۔

’مجبور‘ پہلی بار 2025 میں ریلیز ہوا تھا اور اس کے بعد یہ گیت عالمی سطح پر 250 ملین سے زائد اسٹریمز حاصل کر چکا ہے۔ گانا Spotify، YouTube اور Apple Music پر ٹاپ 3 میں شامل رہا، گلوبل ٹاپ 100 میں جگہ بنائی، YouTube کے ٹاپ میوزک ویڈیوز میں نمایاں ہوا اور Spotify کے Global Viral Top 50 تک پہنچا۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات میں اس کے سننے والوں کی بڑی تعداد نے اسے سرحدوں سے آگے جانے والا مقبول گیت بنا دیا۔

اس گانے کے سفر میں نیا موڑ اس وقت آیا جب لوسٹ فریکوئنسیز نے اپنے لائیو سیٹس میں ’مجبور‘ کی اپنی تشریح پیش کرنا شروع کی اور بعد ازاں ان لمحات میں سے ایک کو Instagram پر بھی شیئر کیا۔ اب ’Majboor – Lost Frequencies Remix‘ باضابطہ طور پر جاری ہو چکا ہے، جس میں اصل گانے کی جذباتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے الیکٹرانک ساؤنڈ کے ساتھ ایک نئے عالمی میوزک ایکو سسٹم تک پہنچایا گیا ہے۔

شہریار ریحان نے اس اشتراک پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے پہلی بار ’مجبور‘ ریلیز کیا تو انہیں معلوم تھا کہ یہ گانا ان کے لیے بہت معنی رکھتا ہے، لیکن یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کوئی گانا کتنا دور جائے گا یا کن لوگوں سے جڑے گا۔ ان کے مطابق سرحدوں کے پار اس گانے کا لوگوں سے جڑنا ایک خاص سفر رہا۔ شہریار ریحان نے کہا کہ لوسٹ فریکوئنسیز نے ریمکس میں بہت اچھا کام کیا ہے، گانے میں ایک تازہ موسیقیائی زاویہ شامل کیا ہے اور اصل گانے کے احساس کو برقرار رکھا ہے۔

Giraffe Music کے پروڈیوسر، COO اور شریک بانی زلفی نے کہا کہ موسیقی ہماری کہانیوں کو ایسی جگہوں تک لے جاتی ہے جن کا ہم کبھی تصور بھی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ’مجبور‘ پہلے ہی دنیا بھر کے لوگوں سے جڑنے کا سفر شروع کر چکا تھا۔ زلفی نے کہا کہ وہ ہمیشہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ موسیقی لوگوں کو قریب لانے اور حقیقی اشتراک پیدا کرنے کا ایک طاقت ور ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں لوسٹ فریکوئنسیز کو ’مجبور‘ پرفارم کرتے دیکھنا ایسا لمحہ تھا جس نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا، اور ایسے لمحات پاکستانی موسیقی کے لیے دنیا بھر میں مزید آگے جانے کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔

لوسٹ فریکوئنسیز نے کہا کہ ’مجبور‘ میں ایک لازوال کیفیت موجود ہے۔ ان کے مطابق انہیں اس کی خوبصورت دھنوں کو اپنے ساؤنڈ کے ساتھ ملانے اور اسے ڈانس فلور تک لانے میں بہت لطف آیا۔

لوسٹ فریکوئنسیز بیلجین ڈی جے اور پروڈیوسر Félix De Laet کا اسٹیج نام ہے۔ انہیں عالمی سطح پر ’Are You With Me‘ سے شہرت ملی، جو 18 ممالک میں نمبر ون رہا اور اس کے ذریعے وہ برطانیہ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے والے پہلے بیلجین فنکار بنے۔ Spotify پر اپنے عروج کے وقت ان کے ماہانہ سننے والوں کی تعداد 36 ملین سے زائد رہی، جب کہ اس وقت وہ 21.2 ملین ماہانہ سامعین سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا عالمی کیٹلاگ یورپی چارٹس اور Billboard Hot 100 تک پھیلا ہوا ہے۔

شہریار ریحان اور زوہا وسیم کے لیے یہ ریمکس اس گانے کے سفر کو مزید آگے بڑھاتا ہے، جو ان کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی ریلیزز میں شامل ہو چکا ہے۔ ’مجبور‘ شہریار ریحان نے لکھا اور کمپوز کیا، جس میں ان کی براہ راست جذباتی گیت نگاری کے ساتھ زوہا وسیم کے غزل سے جڑے اندازِ گائیکی نے ایک جدید پاکستانی پاپ ریکارڈ تشکیل دیا۔

یہ اشتراک اس وسیع تبدیلی کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستانی اور جنوبی ایشیائی موسیقی عالمی سامعین تک پہنچ رہی ہے۔ گانے اب اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل کمیونٹیز، لائیو پرفارمنسز اور مختلف اصناف کے درمیان سفر کر رہے ہیں، اور روایتی صنعتی راستوں کے بغیر بھی ایک مارکیٹ سے نکل کر دوسری مارکیٹ میں دریافت اور نئے انداز سے پیش کیے جا رہے ہیں۔

’Majboor – Lost Frequencies Remix‘ کو شہریار ریحان، زوہا وسیم اور لوسٹ فریکوئنسیز نے پرفارم کیا ہے، جب کہ پروڈیوسر لوسٹ فریکوئنسیز ہیں۔ گانا شہریار ریحان نے لکھا اور کمپوز کیا، ریمکس کی مکسنگ اور ماسٹرنگ Andres Algaba نے کی۔ اصل ٹریک کے پروڈیوسر Kabeer Khan تھے، گٹارز Sherry Khattak نے بجائے، جب کہ مکس اور ماسٹر Julysonic نے کیا۔

’Majboor – Lost Frequencies Remix‘ اب تمام بڑے ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔

Share This Article