ایچ ایس اے کو عالمی مرکزِ امتیاز کا درجہ ملنا خوش آئند ہے، ڈاکٹر مختار بھرتھ

newsdesk
3 Min Read
وزیرِ مملکت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی پبلک ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کیا۔

اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے قومی صحت خدمات ڈاکٹر مختار بھرتھ نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کو عالمی مرکزِ امتیاز تسلیم کیے جانے پر مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ملک میں محفوظ، مربوط اور قابلِ اعتماد قومی ڈیجیٹل صحت نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔

اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے زیرِ اہتمام 16ویں سالانہ بین الاقوامی پبلک ہیلتھ کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ حکومت قومی ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کے قیام پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان صحت سے متعلق ڈیٹا کے محفوظ تبادلے کو ممکن بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ معاہدے طے پا چکے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں اور علاقوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے انتظامات کے لیے پیش رفت کی جائے گی۔

وزیرِ مملکت کے مطابق وزارتِ صحت مجوزہ ہیلتھ سکیورٹی ایکٹ پر کام کر رہی ہے تاکہ صحت کے ڈیٹا کے تحفظ، رازداری اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون وفاق، صوبوں اور علاقوں کے درمیان صحت کی معلومات کے تبادلے کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے زور دیا کہ کامیاب ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم صرف ڈیٹا جمع کرنے سے قائم نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے درستگی، قابلِ اعتماد معلومات اور مختلف نظاموں کے باہمی ربط کی صلاحیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے ڈیٹا کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کو بھی ڈیجیٹل صحت کے بنیادی تقاضوں میں شامل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔ وزیرِ مملکت نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی پر زور دیا کہ وہ ایسے صحت کے پیشہ ور افراد تیار کرے جو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ ہوں۔

کانفرنس کا موضوع “Digital Health Innovations for Better Health Outcomes” تھا، جس میں ٹیکنالوجی کی جدت اور عوامی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں اس کے کردار کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

Share This Article