پاکستان اور ایران کے درمیان رابطوں اور تجارت کے وسیع امکانات ہیں، ایرانی سفیر

newsdesk
5 Min Read
پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے آئی ایس ایس آئی میں پاک ایران تعاون پر اظہار خیال کیا۔

اسلام آباد: پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہونے کے ناطے گہرے تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط رکھتے ہیں، جبکہ جغرافیائی قربت دونوں ملکوں کے لیے تجارت، رابطہ کاری اور علاقائی معاشی تعاون کو وسعت دینے کے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے۔

وہ آج انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں ’’ایمبیسیڈر پلیٹ فارم‘‘ کے تحت منعقدہ گول میز مباحثے سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان اور ایران ایک طویل سرحد، سمندری رابطوں اور گہرے تاریخی و ثقافتی تعلقات کے حامل ہمسایہ ممالک ہیں، اس لیے دونوں کے مفاد میں ہے کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ ان کے مطابق جغرافیائی قربت نقل و حمل اور لاجسٹک اخراجات میں کمی کے ذریعے تجارت کے لیے اہم مواقع پیدا کرتی ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پاکستان کے لیے وسطی ایشیا، قفقاز، ترکیہ اور یورپی منڈیوں تک رسائی کا گیٹ وے بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان ایران کو جنوبی ایشیا اور اس سے آگے کی منڈیوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے دوطرفہ معاشی تعاون کے لیے سڑک، سمندری اور ریلوے رابطوں کو اہم ستون قرار دیا۔ کراچی، گوادر اور بندر عباس کے درمیان ممکنہ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سرحدی گزرگاہوں میں اضافے اور سرحدی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے ایران کو پاکستانی غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے اور پاکستان کے راستے ٹرانزٹ سرگرمیوں کے فروغ کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ ریلوے رابطوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران نے زاہدان اور پاکستانی سرحد کی جانب بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے، تاہم پاکستان کی جانب مزید پیش رفت مؤثر ریلوے رابطے کے قیام کے لیے ضروری ہوگی، جس سے پاکستان کو وسطی ایشیا اور یورپی منڈیوں سے منسلک کیا جا سکے گا۔

علاقائی سلامتی پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے اظہار یکجہتی کو سراہا۔ انہوں نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی سہولت کے لیے سفارتی کوششوں کا اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات اور پُرامن و پائیدار حل کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر سلامتی کے چیلنجز کا جواب دینے کے لیے بھی تیار ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کے سفارتی عمل کے لیے قابل اعتماد وعدے اور ان پر عمل درآمد ناگزیر ہیں۔

ایرانی سفیر نے لبنان، شام، یمن اور غزہ میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ طویل محاذ آرائی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کشیدگی میں کمی اور پُرامن حل کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط اور مسلسل دوطرفہ رابطے علاقائی امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔

یہ گول میز مباحثہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کا اہتمام ادارے کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا) نے کیا۔ مباحثے کی نظامت آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے کی۔ تقریب میں پاکستان کے سابق سینئر سفارت کاروں، سیاست دانوں، فوجی حکام، ممتاز ماہرین تعلیم اور سکیورٹی تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔

Share This Article