صوفیہ انجم کے میڈیا سفر کے 20 سال، پاکستان سے دبئی ریڈیو تک کامیابیوں کا سلسلہ

newsdesk
5 Min Read
صوفیہ انجم نے ریڈیو، ٹی وی، ایونٹس، ڈیجیٹل میڈیا اور تعلیم میں 20 سالہ سفر مکمل کیا۔

پاکستان، 5 اکتوبر 2026: پاکستانی ریڈیو ہوسٹ، ٹیلی ویژن پریزنٹر اور پروفیشنل ایمسی صوفیہ انجم میڈیا میں اپنے 20 سال مکمل ہونے کا سنگ میل منا رہی ہیں۔ ان کا سفر پاکستان میں ایف ایم 91 سے شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ریڈیو، ٹیلی ویژن، لائیو ایونٹس، ڈیجیٹل میڈیا اور تعلیم تک پھیل گیا۔

صوفیہ انجم نے 13 دسمبر 2006 کو ایف ایم 91 کے ذریعے ریڈیو کی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں نجی ایف ایم ریڈیو کا منظرنامہ ابھر رہا تھا اور خواتین ریڈیو شخصیات کی نئی نسل اس میڈیم کو نئی پہچان دے رہی تھی۔ دو دہائیوں کے دوران صوفیہ انجم نے براڈکاسٹنگ اور لائیو انٹرٹینمنٹ میں نمایاں مقام بنایا اور بڑے تفریحی پلیٹ فارمز پر ایک معروف میزبان کے طور پر سامنے آئیں۔ وہ سول فیسٹ کی آفیشل میزبان بھی رہ چکی ہیں۔

اپنے پیشہ ورانہ سفر میں انہوں نے ایسے ایونٹس کی میزبانی کی جن میں عاطف اسلم، رنویر سنگھ، فواد خان اور ہانیہ عامر جیسی شخصیات شامل رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف معروف برانڈز اور اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہیں۔ ان کا کام پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات، ترکی، تھائی لینڈ، ملائیشیا، اسپین، اٹلی اور امریکا تک پھیلا۔

ستمبر 2023 میں صوفیہ انجم دبئی منتقل ہوئیں، جہاں انہوں نے پاکستان میں بننے والے اپنے مضبوط کیریئر کو ایک نئے بین الاقوامی مرحلے میں داخل کیا۔ اکتوبر 2024 میں انہوں نے متحدہ عرب امارات میں وائب ایف ایم 105.4 کے ذریعے ریڈیو پر واپسی کی اور پاکستانی سمیت کثیرالثقافتی سامعین سے رابطہ جاری رکھا۔ اس وقت وہ دبئی ریڈیو پر واحد پاکستانی آر جے کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

یہ سنگ میل ایک ایسے سال کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہیں مزید اعترافات ملے۔ اپریل 2026 میں صوفیہ انجم کو بیسٹ ایمسی آف دی ایئر قرار دیا گیا جبکہ اگست 2026 میں انہیں آر جے آف دی ایئر کا اعزاز ملا۔ اس سے قبل انہیں 2021 میں گورنر ہاؤس پنجاب کی جانب سے اعتراف، گلف نیوز اور بینگ شی ایکسی لینس اِن میڈیا ایوارڈ، اور اقوام متحدہ گلوبل پیس کونسل کا میڈیا پرسن آف دی ایئر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ میڈیا اور انٹرٹینمنٹ میں پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا بھی دیا گیا ہے۔

براڈکاسٹنگ سے آگے بڑھ کر صوفیہ انجم نے تعلیم اور مینٹورشپ کے شعبوں میں بھی کام کیا ہے۔ وہ لمز میں میڈیا اور پبلک اسپیکنگ پڑھا چکی ہیں اور منی پال یونیورسٹی دبئی کی آفیشل پوڈکاسٹر ہیں۔ وہ دی ایس اسٹوڈیو کی بانی بھی ہیں، جہاں وہ میڈیا ایجوکیشن، رہنمائی اور کری ایٹر ڈیولپمنٹ سے متعلق کام کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

اپنے 20 سالہ سفر پر گفتگو کرتے ہوئے صوفیہ انجم نے کہا، “جب میں نے 2006 میں پاکستان میں ریڈیو شروع کیا تھا تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ پہلا قدم مجھے کہاں تک لے جائے گا۔ آج بین الاقوامی سطح پر ریڈیو، ٹیلی ویژن، ایونٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنا اس سنگ میل کو میرے لیے خاص معنی دیتا ہے۔”

میڈیا میں اپنی تیسری دہائی کا آغاز کرتے ہوئے صوفیہ انجم کا کہنا ہے کہ اب ان کی توجہ ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو آگے بڑھانے اور تیزی سے بدلتی ہوئی انڈسٹری میں دو دہائیوں کے تجربے کو دوسروں تک منتقل کرنے پر زیادہ ہے۔

صوفیہ انجم پاکستان میں پیدا ہونے والی ریڈیو براڈکاسٹر، ٹیلی ویژن پریزنٹر اور پروفیشنل ایمسی ہیں، جنہیں میڈیا، انٹرٹینمنٹ اور لائیو ایونٹس میں 20 سال کا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے 2006 میں پاکستان سے براڈکاسٹنگ کیریئر شروع کیا اور بعد ازاں پاکستان، متحدہ عرب امارات اور مختلف بین الاقوامی اسائنمنٹس پر کام کیا۔ وہ دی ایس اسٹوڈیو کی بانی ہیں اور میڈیا ایجوکیشن، مینٹورشپ اور کری ایٹر ڈیولپمنٹ میں سرگرم ہیں۔

Share This Article