راولپنڈی: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے کہا ہے کہ جہالت کے اندھیروں کو صرف علم کی روشنی سے دور کیا جا سکتا ہے اور یہی روشنی قوموں کو تعمیر، ترقی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔
عالمی یومِ معلم کے موقع پر کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر صدیقی نے کہا کہ اساتذہ کرام قوم تک علم کی روشنی منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ جس طرح علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے، اسی طرح استاد کا احترام بھی ہم سب پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اساتذہ ہمارا فخر ہیں اور آج کا دن ان کی خدمات کے اعتراف اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔
عامر صدیقی نے کہا کہ اسلام میں استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے۔ والدین کے بعد بچے کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری استاد نہایت احسن انداز میں ادا کرتا ہے۔ استاد ہی وہ شخصیت ہے جو لوہے کو کندن، پتھر کو ہیرا اور بنجر زمین کو کھلیان بنانے کا ہنر رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں میں استاد کو عزت، وقار اور بہترین سہولیات دی جاتی ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’بیشک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ علم پیغمبروں کی میراث ہے اور استاد قوم کو سیدھی راہ دکھانے اور علم کے زیور سے آراستہ کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ استاد ماضی کو روشن، حال کو بہتر اور مستقبل کو شاندار بناتا ہے۔ استاد کی عزت سے زندگی سنورتی ہے اور درسگاہوں کو رونق ملتی ہے۔ معاشرے کا حسن اور قدرت کے حسین تصورات استاد کی محنت کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ معمارانِ قوم یعنی اساتذہ کو درپیش مسائل کا ازالہ کیا جائے۔ انہیں بروقت اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تنخواہیں، پنشن اور دیگر مراعات فراہم کی جائیں، ان کی خدمات کو تحفظ دیا جائے اور ان کے رتبے کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
عامر صدیقی نے کہا کہ تعلیمی نظام میں پرائیویٹ سیکٹر نے ایک انقلاب ضرور برپا کیا ہے اور بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے عوض بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں، مگر بیشتر اداروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو معمولی تنخواہوں پر پڑھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں جو اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہیں، اور استاد سے بڑھ کر کوئی محسن نہیں ہو سکتا۔ ہمیں بلندیوں کو چھونے کے لیے استاد کو عزت و احترام دینا ہوگا۔
