بزرگ شہریوں کے وقار اور سماجی تحفظ کے لیے عملی اقدامات پر زور

newsdesk
6 Min Read
مووِن پک ہوٹل اسلام آباد میں بزرگ افراد کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بزرگ شہریوں کے حقوق، نگہداشت اور سماجی تحفظ پر گفتگو کی گئی۔

اسلام آباد، یکم اکتوبر 2026: مووِن پک ہوٹل اسلام آباد میں بزرگ افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں بزرگ شہریوں کے لیے مؤثر پالیسیوں، بہتر سماجی تحفظ اور باوقار نگہداشت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

تقریب وفاقی وزارتِ انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (UNFPA) کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں حکومتی نمائندوں، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء نے بزرگ افراد کو درپیش مسائل، ان کی صحت، فلاح، نگہداشت اور تحفظ کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بزرگ شہریوں کی نگہداشت ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ معاشرہ بزرگ افراد کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھے اور ادارے مل کر ان کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بزرگ شہریوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے قوانین، پالیسیوں اور ان پر عملدرآمد کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں سینئر سٹیزنز سے متعلق قانون پر بھی کام کیا گیا ہے، جبکہ بزرگ شہریوں کے لیے قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو بزرگ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج نوجوان نسل پر سرمایہ کاری ضروری ہے کیونکہ یہی نوجوان آنے والے وقت میں بزرگ آبادی کا حصہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بزرگ افراد کے مسائل پر صرف آواز اٹھانا کافی نہیں بلکہ آگاہی کو مؤثر پالیسی، عملی اقدامات اور مضبوط عزم میں تبدیل کرنا ہوگا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال صرف خوراک اور رہائش تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق بزرگ افراد کو بنیادی سہولیات کے ساتھ عزت، وقار، محبت، شفقت اور تکریم فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے خاندانوں پر زور دیا کہ والدین اور بزرگوں کے لیے وقت نکالا جائے اور ان کی زندگی بھر کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ والدین کی خدمت احسان نہیں بلکہ ذمہ داری اور فرض ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق آج کے بزرگ معاشرے کے معمار ہیں اور ان کے بڑھاپے کو عزت، تحفظ اور وقار دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے خاندانی نظام میں تبدیلی اور معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامل بزرگوں کی نگہداشت کے روایتی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کم آمدنی والے اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد کو درپیش مشکلات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ غربت، بڑھتی عمر اور نگہداشت تک محدود رسائی کا سامنا کرنے والے افراد کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اہم ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ غیر رسمی شعبے کے کارکنوں کے لیے ریٹائرمنٹ اور بڑھاپے کے تحفظ کا مناسب نظام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آجر اور کارکن کی شراکت پر مبنی نظام کے ذریعے غیر رسمی کارکنوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق پنشن صرف مالی معاونت نہیں بلکہ بزرگ شہریوں کی خودداری اور باوقار زندگی کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے لیے مؤثر فریم ورک تشکیل دینے کی کوششیں جاری ہیں جو غربت اور بڑھتی عمر کے باعث مناسب نگہداشت اور توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بزرگ شہریوں کے تحفظ کے لیے حکومتی معاونت، معاشرتی ذمہ داری اور انفرادی کردار تینوں ناگزیر ہیں۔

تقریب میں فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلوسیو ڈویلپمنٹ (FAID) کے نمائندے نے بزرگ افراد کے لیے صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج نوجوانوں پر سرمایہ کاری مستقبل کی بزرگ آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

شرکاء نے بین النسلی تعاون کے فروغ، جامعات اور سول سوسائٹی کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع کو بزرگ افراد کے مسائل سمجھنے اور حل کرنے کے لیے استعمال کرنے پر بھی زور دیا۔

تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بزرگ شہریوں کے لیے صرف آگاہی یا وکالت کافی نہیں، بلکہ اسے عملی اقدامات میں بدلنا ضروری ہے تاکہ بزرگ افراد صحت، عزت، وقار اور مناسب سماجی تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

Share This Article