اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد کی چار اپیلیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ڈی ایچ اے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 49(2) کے تحت “لوکل اتھارٹی” کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے وہ اس شق کے تحت انکم ٹیکس سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 17 اگست 2026 کو فیصلہ سنایا۔ فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تحریر کیا۔ یہ اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 14 جنوری 2019 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں، جس میں ڈی ایچ اے کا ٹیکس استثنیٰ کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا تھا۔
مقدمہ ٹیکس سال 2005، 2006، 2007 اور 2008 سے متعلق تھا۔ ڈی ایچ اے نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں دفعہ 49(2) کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ لوکل اتھارٹی ہے، اس لیے اسے انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ابتدائی طور پر ان گوشواروں کو اسیسمنٹ آرڈرز کے طور پر لیا گیا، تاہم بعد ازاں لارج ٹیکس پیئرز یونٹ اسلام آباد کے کمشنر آڈٹ ٹو اور ایڈیشنل کمشنر آڈٹ ٹو نے اسیسمنٹس تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے قانون کے مطابق لوکل اتھارٹی نہیں، لہٰذا وہ استثنیٰ کی حقدار نہیں۔
ڈی ایچ اے کو پہلے کمشنر انکم ٹیکس اپیلز کے سامنے کامیابی ملی، جہاں قرار دیا گیا کہ اتھارٹی کو لوکل اتھارٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو نے بھی جنوری 2012 میں اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں ریونیو نے معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اٹھایا، جہاں جنوری 2019 میں ٹیکس ریفرنسز ڈی ایچ اے کے خلاف طے کیے گئے۔ اس کے بعد ڈی ایچ اے نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ میں ڈی ایچ اے کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسے قانون کے تحت قائم کیا گیا ہے اور وہ اپنے علاقے میں ترقی، منصوبہ بندی، ریگولیشن اور انتظامی امور کی ذمہ دار ہے۔ ڈی ایچ اے کے وکیل نے دلیل دی کہ ادارہ عوامی اور مقامی اختیارات استعمال کرتا ہے، اس لیے “لوکل اتھارٹی” کی اصطلاح کو محدود معنی میں نہیں لیا جانا چاہیے۔
ریونیو نے اس دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی مخصوص علاقے میں اختیارات کا استعمال یا عوامی نوعیت کے کام انجام دینا خود بخود کسی ادارے کو لوکل اتھارٹی نہیں بنا دیتا۔ ریونیو کے مطابق ڈی ایچ اے میں وہ بنیادی قانونی خصوصیات موجود نہیں جو اس حیثیت کے لیے ضروری ہیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ڈی ایچ اے عوامی یا بلدیاتی نوعیت کے کام کرتا ہے یا کسی مخصوص علاقے میں کام کر رہا ہے۔ عدالت کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا قانون نے ڈی ایچ اے کو وہ قانونی اختیارات اور اوصاف دیے ہیں جو دفعہ 49(2) کے تحت کسی ادارے کو لوکل اتھارٹی بناتے ہیں۔
عدالت نے جنرل کلازز ایکٹ 1897 میں “لوکل اتھارٹی” کی تعریف کا جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی اتھارٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانوناً کسی میونسپل یا لوکل فنڈ کے کنٹرول یا انتظام کی حقدار ہو، یا حکومت کی جانب سے اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ عدالت نے لوکل اتھارٹیز لونز ایکٹ 1914 کو بھی دیکھا، جس کے تحت لوکل اتھارٹی کو مقامی یا میونسپل فنڈ پر قانونی اختیار حاصل ہو سکتا ہے یا وہ کسی مقامی علاقے میں سیس، ریٹ، ڈیوٹی یا ٹیکس عائد کرنے کی مجاز ہو سکتی ہے۔
فیصلے میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ عطاء الحق کیس میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ لوکل اتھارٹی عموماً مقامی حکومت کے فرائض انجام دیتی ہے اور اسے بائی لاز بنانے، ٹیکس لگانے اور لوکل فنڈ کے انتظام جیسے اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیس میں متعلقہ اتھارٹی کو لوکل اتھارٹی تسلیم کیا گیا تھا کیونکہ قانون نے اسے وسیع اختیارات دیے تھے، جن میں ٹیکس عائد کرنے اور اپنا فنڈ برقرار رکھنے کا اختیار بھی شامل تھا۔
سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب بنام مارکیٹ کمیٹی کے مقدمے میں بیان کردہ اصولوں پر بھی انحصار کیا۔ ان اصولوں میں الگ قانونی شناخت، مستقل وجود، مشترکہ مہر، مقدمہ دائر کرنے اور مقدمہ بھگتنے کی صلاحیت، متعین حدود میں کام کرنا، مقامی حکومت کے امور انجام دینا، بائی لاز بنانا، فیس یا ٹیکس عائد کرنا اور اپنا فنڈ قائم و منظم کرنا شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ کسی ادارے کو لوکل اتھارٹی ماننے کے لیے یہ خصوصیات نمایاں اور غالب طور پر موجود ہونی چاہئیں۔
ان اصولوں کا ڈی ایچ اے پر اطلاق کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ریکارڈ سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی ایچ اے ایک متعین علاقے میں ترقی، منصوبہ بندی، ریگولیشن اور انتظامی کام کرتا ہے۔ عدالت کے مطابق یہ بات مطلوبہ قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ڈی ایچ اے کو کسی میونسپل یا لوکل فنڈ کے کنٹرول یا انتظام کا قانونی حق حاصل ہے، یا اسے اپنے علاقے میں سیس، ریٹ، ڈیوٹی یا ٹیکس عائد کرنے کا قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ کوئی ادارہ صرف اس بنا پر لوکل اتھارٹی نہیں بن جاتا کہ اس کی سرگرمیاں ایک مخصوص علاقے تک محدود ہیں یا وہ عوامی کام انجام دیتا ہے۔ اصل اہمیت اس قانونی کردار کی ہے جو قانون اسے دیتا ہے اور ان حقیقی اختیارات کی ہے جو اسے عطا کیے گئے ہوں۔ عدالت نے کہا کہ ڈی ایچ اے وہ وسیع قانونی اختیارات ظاہر نہیں کر سکا جن کی بنیاد پر سابقہ مقدمات میں اداروں کو لوکل اتھارٹی تسلیم کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے نتیجتاً ڈی ایچ اے کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 49(2) کے تحت لوکل اتھارٹی کے مفہوم میں آتا ہے۔ اس بنا پر ڈی ایچ اے کا انکم ٹیکس استثنیٰ کا دعویٰ ناقابل قبول قرار پایا اور عدالت نے چاروں اپیلیں خارج کر دیں۔
