چین، یو این ڈی پی اور پاکستان کا بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کا تعاون مزید مضبوط کرنے پر زور

newsdesk
8 Min Read
اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی دورے کے دوران چین، یو این ڈی پی، حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کے نمائندوں نے سیلاب متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔

اسلام آباد — پاکستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے چائنا انٹرنیشنل سینٹر فار اکنامک اینڈ ٹیکنیکل ایکسچینجز (CICETE) کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محترمہ لی شوئین کا اعلیٰ سطحی دورے پر خیرمقدم کیا۔ دورے کا مقصد پاکستان میں تعاون کو مضبوط بنانا اور پائیدار بحالی کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔

اس موقع پر CICETE، عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے، حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان، یو این ڈی پی اور بلوچستان میں چین کے تعاون سے جاری اقدامات سے مستفید ہونے والی مقامی کمیونٹیز کے نمائندے شریک ہوئے۔ کمیونٹی ارکان کے تجربات نے اب تک کی پیش رفت، حاصل ہونے والے اسباق، موجودہ پورٹ فولیو کو وسعت دینے کے امکانات اور آئندہ تعاون کی ترجیحات پر گفتگو کو عملی بنیاد فراہم کی۔

بلوچستان میں سیلاب کے بعد روزگار کی بحالی کے لیے چین کے تعاون سے شروع کیے گئے پہلے مرحلے کی کامیابی کی بنیاد پر، جس سے ایک لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد افراد مستفید ہوئے، نیا مرحلہ یو این ڈی پی کے وسیع تر فلیگ شپ فلڈ ریکوری پروگرام (FRP) کے تحت بحالی کے قائم شدہ پلیٹ فارم کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ اس کے ذریعے شراکت داری، تجربے اور سرمایہ کاری کو یکجا کر کے صوبے بھر میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کی جا رہی ہے۔

محترمہ لی شوئین، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل CICETE، نے کہا کہ 2026 چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کا سال ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 75 برسوں میں دونوں ممالک مشکلات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے اور باہمی اعتماد، دوستی اور تعاون کے گہرے رشتے سے منسلک رہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے دور میں چین پاکستان مشترکہ مستقبل کی مزید قریبی کمیونٹی کی تعمیر کی سمت بڑھ رہے ہیں اور عوام کے روزگار و معیار زندگی میں بہتری کا تعاون اس پائیدار شراکت داری کا اہم حصہ رہا ہے۔

محترمہ لی شوئین نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ چین، یو این ڈی پی اور پاکستان کے تعاون کی ایک ٹھوس مثال ہے، جو پائیدار بحالی اور دیرپا ترقی کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ان کے بقول یہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کے وژن اور صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ چار عالمی اقدامات کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ CICETE متعلقہ چینی حکام، یو این ڈی پی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان بھر میں مزید “چھوٹے مگر خوبصورت” روزگار منصوبے تیار کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ ٹھوس فوائد حاصل ہوں اور خطے میں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کیا جا سکے۔

حکومت چین کی جانب سے گلوبل ڈیولپمنٹ اینڈ ساؤتھ ساؤتھ کوآپریشن فنڈ (GDF) کے ذریعے تعاون اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے نافذ کیا جانے والا پوسٹ فلڈ ایگریکلچرل ریسٹوریشن (One Town One Product) منصوبہ سات اضلاع میں تقریباً ایک لاکھ دس ہزار افراد کو زرعی و روزگار معاونت، تکنیکی تربیت، تین ہزار خواتین کے لیے مخصوص تعاون اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے ذریعے مدد فراہم کرے گا۔

یو این ڈی پی پاکستان کے ریذیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک نے کہا کہ موسمیاتی جھٹکے چند گھنٹوں میں برسوں کی پیش رفت مٹا سکتے ہیں۔ اس لیے بحالی صرف کھوئی ہوئی چیزوں کے بدل کا نام نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ان کمزوریوں کو بھی کم کرنا چاہیے جو ابتدا ہی میں زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چین اور حکومت بلوچستان کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے فوری روزگار معاونت کو مہارتوں، مضبوط مقامی صلاحیتوں اور بہتر معاشی مواقع سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ کمیونٹیز آج بحال ہو سکیں اور مستقبل کے جھٹکوں کا زیادہ مضبوطی سے سامنا کر سکیں۔

تقریب کے دوران زرعی اور کچن گارڈننگ ٹول کٹس حوالے کی گئیں، جو منصوبے کے نفاذ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔ یہ ٹول کٹس زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد دیں گی اور کچن گارڈننگ کے ذریعے خواتین کے لیے آمدن کے مواقع پیدا کریں گی۔ چین کے تعاون سے سیلاب کے بعد بحالی کے دونوں مراحل مجموعی طور پر بلوچستان بھر میں تین لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچانے کی توقع رکھتے ہیں، جس سے کمیونٹیز کو روزگار بحال کرنے، زرعی پیداوار بہتر بنانے اور مستقبل کے موسمیاتی جھٹکوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

تقریب میں بلوچستان کی سیلاب متاثرہ کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والی دو خواتین، بی بی زینب اور بی بی ناز، جنہیں اس اقدام کے تحت مدد ملی، نے بتایا کہ سیلاب نے ان کے خاندانوں کے روزگار کو کس طرح متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاونت ان کے علاقوں میں خواتین کو دوبارہ پیداواری سرگرمیاں شروع کرنے، گھریلو آمدن میں حصہ ڈالنے اور زیادہ معاشی خودمختاری کی طرف بڑھنے میں مدد دے رہی ہے۔ انہوں نے باقی رہ جانے والی ضروریات کا بھی ذکر کیا، خاص طور پر گھروں کی دوبارہ تعمیر، مویشیوں کی بحالی اور خاندانوں کی کھوئی ہوئی معاشی و سماجی استحکام کی واپسی کے لیے مدد کی ضرورت پر زور دیا۔

حکومت پاکستان کے اقتصادی امور ڈویژن میں یو این ڈیسک کے جوائنٹ سیکریٹری محمود احمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سیلاب کے بعد بحالی کے لیے حکومت چین کی مسلسل معاونت اور اس شراکت داری کو بلوچستان کی سیلاب متاثرہ کمیونٹیز تک عملی مدد میں بدلنے میں یو این ڈی پی کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات روزگار کی بحالی، معاشی مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی پائیداری کی حمایت میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی چیف فارن ایڈ، محترمہ بتول اسدی نے کہا کہ خواتین اکثر سیلاب کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا کرتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب روزگار اور گھریلو آمدن متاثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو دوبارہ پیداواری کام شروع کرنے اور آمدن پیدا کرنے کے مواقع تک رسائی دینا دیرپا بحالی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومت بلوچستان متاثرہ خاندانوں کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ زندگی دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد دینے کے لیے حکومت چین کی مسلسل معاونت اور یو این ڈی پی کی قریبی شراکت داری کو نہایت اہم سمجھتی ہے۔

دورے میں شجرکاری کی تقریب اور یو این ڈی پی کنٹری ٹیم کے ارکان کے ساتھ تبادلہ خیال بھی شامل تھا۔ CICETE اور یو این ڈی پی نے شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے اور پاکستان میں جامع معاشی ترقی، مضبوط روزگار کے ذرائع اور پائیدار بحالی کے لیے مزید مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Share This Article