اسلام آباد: اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا ہے کہ بعد از قطبی دنیا خود بخود امن فراہم نہیں کرتی بلکہ یہ ریاستوں پر زیادہ ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ ان کے مطابق خطے کو ایک دوسرے کے خلاف سلامتی کے تصور سے نکل کر ایک دوسرے کے ساتھ سلامتی کی طرف بڑھنا ہوگا، تاکہ مکالمے، تعاون اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی علاقائی مستقبل تشکیل دیا جا سکے۔
ڈاکٹر جواد ظریف نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) میں منعقدہ ایک گول میز نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ نشست ادارے کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (CAMEA) نے ڈسٹنگوئشڈ لیکچر سیریز کے تحت منعقد کی۔
ڈاکٹر ظریف ایران کے تجربہ کار سفارت کار، دانشور اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ وہ ایران کی بڑی علاقائی اور عالمی سفارتی سرگرمیوں سے قریبی طور پر وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے 2013 سے 2021 تک ایران کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2015 کے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) تک پہنچنے والے مذاکرات میں بھی انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا اور کثیرالجہتی سفارت کاری اور بین الاقوامی مذاکرات میں ان کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ ابھرتا ہوا بعد از قطبی عالمی نظام علاقائی ریاستوں کے لیے چیلنجز کے ساتھ مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطرات پر مرکوز سلامتی کے تصور سے آگے بڑھ کر امکانات پر مبنی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس کی بنیاد علاقائی ملکیت، مکالمے، تعاون اور مشترکہ خوشحالی پر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عالمی برادری کس قسم کی دنیا میں داخل ہو رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کس طرح کا مستقبل تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے۔
ڈاکٹر ظریف کے مطابق مستقبل کوئی پہلے سے طے شدہ منزل نہیں، بلکہ معاشرے اپنی بیانیہ سازی، اداروں، روابط اور فیصلوں کے ذریعے اسے تشکیل دیتے ہیں۔
خطے کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا نے نوآبادیات، تقسیم، فرقہ واریت، قبضے، حملوں، بیرونی سرپرستی میں ہونے والے تنازعات، دہشت گردی، پابندیوں اور بار بار فوجی جارحیت کا سامنا کیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں غلط اندازوں، اخراج، غلبے اور سلامتی کو بیرونی قوتوں کے سپرد کرنے کے نتائج کے بارے میں اہم اسباق موجود ہیں۔
تاہم ڈاکٹر ظریف نے خبردار کیا کہ اگر معاشرے ماضی کے تنازعات اور شکایات کی یادوں میں ہی قید رہیں تو تاریخ ایک قید خانہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشروں کو ماضی کا دیانت داری سے سامنا کرنا چاہیے تاکہ وہ ان امکانات کو دوبارہ حاصل کر سکیں جنہیں ماضی نے دبا دیا تھا۔
بین الاقوامی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظریف نے موجودہ ماحول کو بعد از قطبی دنیا قرار دیا۔ ان کے مطابق طاقت اب خطوں، معاشروں، منڈیوں، ٹیکنالوجیز، نیٹ ورکس اور عوامی بیانیوں میں پھیل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ریاست ہر بڑے نتیجے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، جبکہ درمیانی طاقتوں اور علاقائی ریاستوں کو زیادہ اسٹریٹجک گنجائش حاصل ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقل اتحاد اور وفاداریاں اب مسئلہ وار اتحادوں اور نیٹ ورک تعلقات کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اسی طرح معاشی باہمی انحصار، ٹیکنالوجی، معلومات اور غیر ریاستی عناصر سلامتی اور سیاسی نتائج کو تیزی سے متاثر کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ اس ماحول میں نئی علاقائی سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سلامتی کو زیادہ جامع بنانا ہوگا، کیونکہ کوئی ملک دوسرے کے لیے عدم تحفظ پیدا کر کے اپنے لیے دیرپا سلامتی حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ خطے کو ایک دوسرے کے خلاف سلامتی کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ سلامتی کے راستے پر چلنا ہوگا۔
ڈاکٹر ظریف نے اپنے اقدام مسلم ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ ایسوسی ایشن (MWADA) پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسے ایسا فریم ورک قرار دیا جس کے ذریعے دشمنی کو مکالمے، ثقافتی روابط، معاشی تعاون اور بالآخر علاقائی عدم جارحیت کے نظام کے ذریعے دوستی میں بدلا جا سکتا ہے۔
اس تناظر میں انہوں نے پاکستان کے کردار کو خاص اہمیت دی اور کہا کہ پاکستان مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وسیع تر MWADA فریم ورک میں خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے ساتھ پاکستان، ترکیہ اور مصر کی شمولیت کا تصور بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ MWADA کو کوئی مکمل یا جامد انتظام نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک ادارہ جاتی امکان ہے جو شریک ریاستوں کی ضروریات کے مطابق ارتقا پذیر ہو سکتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظریف نے سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز تک لانے میں پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) اختلافات کے پرامن حل اور مکالمے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے پیچیدہ علاقائی حرکیات سے نمٹنے میں پاکستان کے سفارتی تجربے کو بھی ایک اثاثہ قرار دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر ظریف نے کہا کہ ماضی یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوجی برتری بذاتِ خود سیاسی جواز پیدا نہیں کرتی، پابندیاں اور جبر استحکام نہیں لاتے، اور بیرونی ضمانتیں علاقائی انتظامات کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ سے سبق سیکھنا ضروری ہے، لیکن اسے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر ظریف نے ایسے مستقبل کی ضرورت پر زور دیا جس میں جغرافیہ سزا نہ ہو، تاریخ قید نہ بنے اور اختلافات کو مستقل تنازع کا بہانہ نہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق اصل ذمہ داری صرف یہ پیش گوئی کرنا نہیں کہ آگے کیا ہوگا، بلکہ یہ تعمیر کرنا ہے کہ آگے کیا ہونا چاہیے۔
گول میز نشست میں پاکستان کے سابق وزرائے خارجہ، سابق خارجہ سیکریٹریز، سفرا، اعلیٰ سول و فوجی حکام، ممتاز ماہرینِ تعلیم اور سکیورٹی تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔
