پمز کی سکیورٹی پر بڑا سوال، نومولود تین مراحل عبور کرکے گیٹ تک پہنچ گیا

newsdesk
5 Min Read

علینہ جنت

اسلام آباد: پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے دلخراش واقعے کے بعد ہسپتال کے انتظامی اور سکیورٹی نظام سے متعلق سوالات ایک بار پھر سامنے آگئے، جہاں آج ایک نومولود بچے کو ایک خاتون مبینہ طور پر ہسپتال سے باہر لے جانے کی کوشش کرتی رہی، تاہم سکیورٹی گارڈ کی بروقت نظر پڑنے سے بچہ محفوظ رہا۔

ذرائع کے مطابق خاتون نومولود بچے کو پمز کے تین مختلف سکیورٹی اسٹیشنز سے گزار کر ہسپتال کے گیٹ تک لے جانے میں کامیاب ہوگئی تھی، تاہم گیٹ کے قریب ایک سکیورٹی گارڈ نے بچے کو خاتون کے پاس دیکھا تو فوری مداخلت کی۔ گارڈ کی بروقت کارروائی کے بعد نومولود کو خاتون سے واپس لے لیا گیا اور ایک ممکنہ سنگین واقعہ ٹل گیا۔

حالیہ واقعے نے پمز کے سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے سانحے کے بعد ہسپتال کے انتظامی معاملات، نگرانی اور مختلف افسران کو دی گئی اضافی ذمہ داریوں پر پہلے ہی توجہ مرکوز کی جا چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر کے دور میں انتظامی اختیارات اور مختلف افسران کو اضافی چارجز دینے کے معاملات بھی زیر بحث رہے۔ 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد بعض افسران کے خلاف کارروائی اور تحقیقات کا عمل شروع ہونے سے ہسپتال کے مجموعی انتظامی نظام پر مزید سوالات اٹھے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سعدیہ بھی ان افسران میں شامل رہی ہیں جو ڈپٹی میڈیکل آفیسر کی ذمہ داری کے ساتھ ڈپٹی ڈائریکٹر ایم سی ایچ اور گائنی کا اضافی چارج بھی سنبھالتی رہی ہیں۔ ان اضافی انتظامی ذمہ داریوں، نگرانی کے طریقہ کار اور متعلقہ معاملات میں کردار کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی کسی غلط کاری کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جا رہا۔

نومولود کو ہسپتال کے اندر سے تین سکیورٹی مراحل عبور کرکے گیٹ تک پہنچنے کے واقعے نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ سکیورٹی نظام کے ہر مرحلے پر بچے کی شناخت اور آمد و رفت کی مناسب جانچ کیوں نہیں ہو سکی۔ واقعے میں بچے کا محفوظ رہنا سکیورٹی گارڈ کی بروقت توجہ کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔

14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد پمز میں انتظامی نگرانی، حفاظتی اقدامات اور جوابدہی کے بارے میں یقین دہانیاں بھی سامنے آئی تھیں، ایسے میں موجودہ واقعہ ان اقدامات کی عملی نگرانی سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے پمز میں موجودہ سکیورٹی نظام کس حد تک مؤثر ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامیہ نے کیا نئے اقدامات کیے ہیں۔ ایک نومولود کا سکیورٹی کے متعدد مراحل سے گزر کر ہسپتال کے گیٹ تک پہنچ جانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ کی جائے، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور سکیورٹی کے نظام میں موجود کمزوریوں کو دور کیا جائے۔

پمز ملک کے اہم سرکاری تدریسی ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے جہاں نومولود اور دیگر حساس مریض زیر علاج رہتے ہیں۔ ایسے مریضوں کی حفاظت صرف ایک سکیورٹی گارڈ نہیں بلکہ پورے انتظامی نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ موجودہ واقعے میں گارڈ کی بروقت مداخلت نے بچے کو محفوظ رکھا، تاہم اس واقعے نے یہ سوال ضرور چھوڑ دیا ہے کہ اگر اس موقع پر گارڈ کی نظر نہ پڑتی تو ہسپتال کے سکیورٹی نظام کی ناکامی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی۔

یہ معاملہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ سکیورٹی کے کون سے مراحل پر کمزوری رہی اور مستقبل میں ایسے واقعے کی روک تھام کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔

Share This Article