اسلام آباد، 12 ستمبر 2026ء: نیشنل اکیڈمی فار ہائر ایجوکیشن (NAHE)، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان کے زیر اہتمام مصنوعی ذہانت (AI)، ادارہ جاتی تیاری اور اعلیٰ تعلیم میں استعدادِ کار بڑھانے کے موضوع پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی۔ اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر NAHE ڈاکٹر نور آمنہ ملک، وائس چانسلرز، سینئر فیکلٹی ارکان، سرکاری جامعات، ایچ ای سی ریجنل سینٹرز اور ہواوے ٹیکنالوجیز کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مشاورتی اجلاس میں مصنوعی ذہانت کو اپنانے اور اداروں کو اس کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں مربوط قومی طرزِ عمل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکا نے AI خواندگی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (HPC)، سائبر سکیورٹی، افرادی قوت کی تربیت، گورننس، تعلیمی پروگراموں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال جیسے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ گفتگو اس تناظر میں بھی اہم قرار دی گئی کہ ایچ ای سی نے حال ہی میں Fall 2026 سے انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ طلبہ کے لیے AI سے متعلق تین کریڈٹ آورز کے کورس کی شرط جاری کی ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم، تحقیق، صنعت، گورننس، صحت، زراعت اور تعلیمی انتظامی امور کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات AI کو محض چند ٹولز کا مجموعہ سمجھنے کے بجائے اسے سمجھنے، منظم کرنے اور ذمہ دارانہ انداز میں اپنے نظام کا حصہ بنانے کی ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کریں۔
ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ AI کے لیے تیاری صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، کمپیوٹنگ صلاحیت، تربیت یافتہ انسانی وسائل، سائبر سکیورٹی، ادارہ جاتی گورننس، تعلیمی مہارت اور اخلاقی تحفظات بھی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ڈیجیٹل تیاری کے فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، ڈیٹا انفراسٹرکچر، سائبر سکیورٹی اور AI کی خصوصی مہارت میں قومی استعداد مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیوں، محققین اور پالیسی سازوں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
منیجنگ ڈائریکٹر NAHE ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے جامعات کی فیکلٹی اور انتظامیہ میں AI صلاحیت بڑھانے کے لیے NAHE کی جاری کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ NAHE نے AI تربیت کے دو کوہورٹس کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جن میں 64 شرکا نے بالمشافہ جبکہ 366 شرکا نے ورچوئل طور پر حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں استعدادِ کار بڑھانے کے مواقع پھیلانے کے لیے ایچ ای سی ریجنل سینٹرز اور 15 شناخت شدہ کلسٹر پوائنٹس کے ذریعے مزید جامع AI تربیتی پروگراموں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اجلاس کے دوران ہواوے ٹیکنالوجیز کے سلوشن ایکسپرٹ مسٹر مینگ گینگ چانگ اور مسٹر لیو نے صنعت کا نقطہ نظر پیش کیا۔ جامعات کے قائدین نے AI کے عملی استعمال کی مثالیں بھی شیئر کیں، جن میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں AI سے معاونت یافتہ داخلہ نظام، BUITEMS میں AI تعلیمی پروگرامز اور PIEAS میں AI سے متعلق اقدامات شامل تھے۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ AI کی تیاری پورے ادارے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے AI سے آگاہ فیکلٹی، تربیت یافتہ انتظامیہ، مناسب پالیسیاں، مضبوط انفراسٹرکچر، سائبر سکیورٹی کے تحفظات، اخلاقی فریم ورک اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ضروری ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر شرکا نے اس ضرورت پر مشترکہ اتفاق کیا کہ AI تربیت، انفراسٹرکچر کی ترقی، ذمہ دارانہ AI اپنانے اور ادارہ جاتی تیاری کے لیے قومی سطح پر ایک مربوط روڈ میپ تیار کیا جائے۔ اس حکمتِ عملی پر مزید غور اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ چند روز میں فالو اَپ اجلاس بلایا جائے گا، جس میں جامعات کی انتظامیہ، فیکلٹی، آئی ٹی ماہرین، محققین اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔
