اسلام آباد: پاکستان کے 11 سالہ طالب علم راجہ محمد حمزہ کیتھوال نے تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں منعقدہ ورلڈ اسکالرز کپ میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ بین الاقوامی سلور میڈلز جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔
راجہ محمد حمزہ کیتھوال سپرنووا اسکول میں جماعت پنجم کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے اس عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی، جس میں مختلف ممالک سے تقریباً 2,200 طلبہ شریک ہوئے۔
مقابلے کے دوران حمزہ نے محنت، اعتماد اور عزم کے ساتھ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور پر مباحثے اور تخلیقی تحریر میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی، جس کے نتیجے میں انہوں نے پانچ سلور میڈلز اپنے نام کیے۔
اس کم عمر طالب علم کی کامیابی اس لیے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے والدین کے بغیر تھائی لینڈ گئے۔ انہوں نے اپنے اسکول کے ساتھیوں کے ساتھ 12 روز وہاں قیام کیا اور میڈلز، ٹرافیز اور قیمتی بین الاقوامی تجربے کے ساتھ وطن واپس آئے۔
حمزہ کے والد ڈاکٹر راجہ محمد عمران نے بیٹے کی کامیابی پر گہرے فخر اور مسرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی کم عمر میں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کرنا خاندان کے لیے بے حد خوشی اور شکرگزاری کا لمحہ ہے۔
ڈاکٹر راجہ محمد عمران نے حمزہ کی والدہ ڈاکٹر ارم کلثوم نیازی کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کو بھی سراہا، جنہوں نے تعلیم اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حمزہ کا ساتھ دیا۔
انہوں نے سر باقی الرحمان کی تدریس اور کوچنگ کو بھی حمزہ کی تیاری میں اہم قرار دیا۔ اسی طرح مس ہسبیلا کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے طلبہ کی تیاری میں کردار ادا کیا، انہیں تھائی لینڈ لے کر گئیں اور 12 روزہ دورے کے دوران کم عمر شرکا کی دیکھ بھال کی۔
خاندان نے سپرنووا اسکول کے ڈائریکٹرز اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے طلبہ کو عالمی مقابلے میں شرکت اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا موقع فراہم کیا۔
ڈاکٹر راجہ محمد عمران کے مطابق حمزہ کی کامیابی صرف اس کی ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ خاندان، اساتذہ اور تعلیمی ادارے کے تعاون کی عکاس بھی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ راجہ محمد حمزہ کیتھوال تعلیم اور بین الاقوامی مقابلوں میں مزید کامیابیاں حاصل کرتے رہیں گے اور اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان کے لیے بھی فخر کا باعث بنیں گے۔
