اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے آرمز کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ سینٹر (اے سی ڈی سی) نے آج یومِ دفاع پاکستان کی یاد میں ایک داخلی نشست کا انعقاد کیا۔ نشست میں آئی ایس ایس آئی کے اراکین نے یومِ دفاع کی تاریخی اہمیت پر غور کیا، پاکستان کی مسلح افواج کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا، قومی دفاعی ڈھانچے میں ٹیکنالوجی کی تبدیلی کا جائزہ لیا، اور روایتی، جوہری اور خلائی شعبوں میں پاکستان کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی، سفیر معین الحق نے پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور ان شہدا کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کے حصول نے جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن بحال کیا اور فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کو قومی سلامتی کی بنیاد بنایا۔
سفیر معین الحق نے پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کے ارتقا، مقامی تیاری، جوہری قوتوں اور خلائی پروگرام سے متعلق پیش کی گئی پریزنٹیشنز کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی دفاع محض جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق قومی دفاع ایک کثیر الجہتی عمل ہے جس میں روایتی تیاری، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تکنیکی ہم آہنگی، قومی یکجہتی، معاشی طاقت اور تزویراتی وضاحت شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے کے تمام طبقات، جن میں محققین، سفارت کار، ڈاکٹرز اور اساتذہ بھی شامل ہیں، مسلح افواج کے شانہ بشانہ ذاتی قربانی، اتحاد، نظم و ضبط اور محنت کے ذریعے قوم کو مضبوط بناتے ہیں، جو قائداعظم کے ابدی نصب العین اتحاد، ایمان اور نظم کی عکاسی ہے۔
اس سے قبل اپنے تعارفی کلمات میں ڈائریکٹر اے سی ڈی سی، ملک قاسم مصطفیٰ نے کہا کہ یومِ دفاع قومی عزم، اتحاد اور تزویراتی پختگی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان کا دفاع صرف مسلح افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پاکستان کے خلائی پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے اے سی ڈی سی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ مہذیب خان نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی نہ صرف سائنسی تحقیق اور قومی سلامتی میں کردار ادا کرتی ہے بلکہ سماجی و معاشی ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا خلائی پروگرام 1960 کی دہائی میں بالائی فضائی تحقیق اور ساؤنڈنگ راکٹ لانچز سے شروع ہو کر بتدریج مواصلاتی اور ریموٹ سینسنگ صلاحیتوں تک پہنچا۔ انہوں نے بین الاقوامی تعاون، بالخصوص پاکستان اور چین کی شراکت داری، کے نمایاں کردار کو بھی اجاگر کیا۔
ریسرچ اسسٹنٹ محمد شہزیب حسن نے پاکستان ایئر فورس کے ارتقا کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے 1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی فیصلہ کن کارکردگی کا ذکر کیا، جہاں تیاری، تربیت اور ٹیکٹیکل قیادت اہم فورس ملٹی پلائر ثابت ہوئے، اور اسے آج کے جدید، نیٹ ورکڈ کمبیٹ ایکوسسٹم سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فضائی قوت کا سفر درآمدی پلیٹ فارمز سے جدیدیت، مقامی تیاری اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کی طرف وسیع تر منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔
بعد ازاں رمشا اشرف نے پاکستان کے جوہری فورس آرکیٹیکچر اور تزویراتی ڈلیوری صلاحیتوں کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور متنوع جوہری ڈیٹرنٹ برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کی بنیاد زمینی اور فضائی صلاحیتوں پر ہے جبکہ سمندری صلاحیت بھی ابھر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ صلاحیت فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کے نظریے سے منسلک ہے، جس کا مقصد ٹیکٹیکل اور اسٹریٹجک سطح پر جارحیت کو روکنا ہے۔
اختتامی خطاب میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی، سفیر خالد محمود نے کہا کہ پاکستان کی مضبوط روایتی اور جوہری صلاحیتوں کے حصول کی کوششوں نے قومی خودمختاری کے تحفظ اور بڑی جنگوں کی روک تھام میں کامیاب کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے واقعات نے سرحد پار حملوں کے لیے ’’نئے معمول‘‘ کے خطرناک تصورات کو فیصلہ کن طور پر توڑ دیا اور ثابت کیا کہ کسی بھی جارحیت کا مضبوط جواب دیا جائے گا۔
سفیر خالد محمود نے زور دیا کہ امن صرف طاقت اور تزویراتی توازن کی بنیاد پر برقرار رہ سکتا ہے۔ انہوں نے پرامن بقائے باہمی اور نتیجہ خیز سفارت کاری کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور خطے میں تزویراتی استحکام کے لیے جامع تجزیہ فراہم کرنے پر اے سی ڈی سی اور آئی ایس ایس آئی کی ریسرچ ٹیم کو سراہا۔
