اسلام آباد: مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) اور نیشنل فارنزکس ایجنسی (این ایف اے) نے ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے اور مسابقتی قانون کے نفاذ میں جدید فارنزک صلاحیتوں کو شامل کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط سی سی پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں چیئرمین سی سی پی جناب فرید احمد تارڑ اور ڈائریکٹر جنرل این ایف اے جناب جواد احمد ڈوگر کی موجودگی میں ہوئے۔ تقریب میں سی سی پی کی رکن محترمہ بشریٰ ناز ملک اور دونوں اداروں کے سینئر حکام بھی شریک تھے۔
استقبالیہ کلمات میں چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ نے مفاہمتی یادداشت کو مضبوط ادارہ جاتی تعاون کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر نفاذ کے لیے مضبوط قانونی ڈھانچے اور مؤثر انفورسمنٹ ٹولز و تکنیک کے ساتھ قابل اعتماد شواہد، سائنسی تجزیے اور خصوصی تکنیکی مہارت کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ شراکت داری سی سی پی کی تحقیقاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گی اور کمیشن کو این ایف اے کی فارنزک مہارت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دے گی۔
فرید احمد تارڑ نے مزید کہا کہ تجارتی سرگرمیاں اور شواہد تیزی سے ڈیجیٹل دائرے میں منتقل ہو رہے ہیں، اس لیے فارنزک صلاحیت کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف اے کے ساتھ تعاون سے سی سی پی مسابقتی قانون کے نفاذ سے متعلق بدلتے ہوئے چیلنجز، خصوصاً پیچیدہ ڈیجیٹل اور الیکٹرانک شواہد پر مبنی تحقیقات، کا زیادہ مؤثر انداز میں جواب دے سکے گا۔
اس موقع پر ڈی جی این ایف اے جواد احمد ڈوگر نے سی سی پی کو ایک اہم قومی ادارہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا کام یکساں مواقع کی فراہمی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے این ایف اے کے ارتقا اور اس کی تیار کردہ خصوصی فارنزک صلاحیتوں کا ذکر کیا اور اس اہم قومی مقصد کے لیے سی سی پی کو اپنی مہارت اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
جواد احمد ڈوگر نے ڈیجیٹل، دستاویزی اور دیگر فارنزک شعبوں میں سی سی پی کو این ایف اے کی تکنیکی معاونت کی پیشکش کی اور مفاہمتی یادداشت کو دونوں اداروں کے درمیان طویل المدتی ادارہ جاتی تعلقات کا آغاز قرار دیا۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے فارنزک جانچ، تکنیکی معاونت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کا فریم ورک قائم کریں گے، جس کا مقصد سی سی پی کی تحقیقاتی اور نفاذی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس تعاون کے ذریعے کمیشن شواہد کو سنبھالنے اور ان کے تجزیے میں این ایف اے کی خصوصی مہارت اور سائنسی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکے گا، جبکہ مسابقتی قانون کے نفاذ سے متعلق شعبوں میں علم کے تبادلے، تکنیکی تربیت اور قریبی ادارہ جاتی رابطے کو بھی فروغ ملے گا۔
