اسلام آباد کے آبی ذخائر بچانے کے لیے ری چارج اقدامات وسیع کرنے پر زور

newsdesk
5 Min Read
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں گراؤنڈ واٹر ری چارج اقدامات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسلام آباد، یکم ستمبر 2026 (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں مسلسل کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے گراؤنڈ واٹر ری چارج کے منصوبوں کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھانا ہوگا۔

منگل کو یو ایس ای ایف پی آڈیٹوریم میں ’’پروٹیکٹنگ اسلام آبادز ایکویفرز‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں تقریباً 200 ری چارج ویلز تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک اہم پائلٹ اقدام ہے، تاہم اسے مزید پھیلانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ ری چارجنگ اقدامات کے نتیجے میں واٹر ٹیبل میں اندازاً 0.4 ملی میٹر اضافہ ہوا، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں تقریباً 1.5 میٹر کمی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ ری چارجنگ کی کوششیں اس حد تک بڑھائی جائیں کہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں کمی کو کم کیا جا سکے اور بالآخر اس گرتے ہوئے رجحان کو واپس موڑا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ری چارج ویلز کا منصوبہ ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے، مگر اسے مسئلے کا آخری حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے مسلسل، مربوط اور بڑے پیمانے پر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے حالیہ شدید بارشوں کے بعد سطحی اور زیرِ زمین پانی کے بہتر انتظام کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اسلام آباد میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد کئی علاقے سیلابی صورتِ حال سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام اور اداروں کو صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔

پانی کے معیار سے متعلق اظہارِ تشویش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں واٹر ٹریٹمنٹ کی سہولیات کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹس صاف کیے جانے والے پانی میں آلودگی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم پانی کے معیار پر مسلسل توجہ دینا ضروری ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے اضافی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار ٹینڈرنگ کے باوجود یہ منصوبہ کئی برس تک زیرِ التوا رہا۔ ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر صرف کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) تک محدود نہیں بلکہ مختلف سرکاری محکموں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس منصوبے پر حال ہی میں پیش رفت ہوئی ہے اور ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کے آبی مفادات کے تحفظ اور آبی سلامتی کے لیے بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی طریقہ کار کی اہمیت پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل پر انحصار کرنے والے ممالک کے حقوق کے تحفظ اور استحکام کے لیے عالمی معاہدوں کا احترام ضروری ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کی اہمیت برقرار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے کلین انوائرمنٹ فنڈ قائم کیا ہے، جس میں نجی شعبے کی شمولیت اور ماحولیاتی اقدامات کی معاونت کے لیے مناسب جانچ پڑتال شامل ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اختراعی طریقوں اور نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے نئی آبادیوں، ہاؤسنگ اسکیموں اور عمارتوں کی چھتوں پر زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ کو فروغ دینے کے لیے قانون سازی کے اقدامات کی حمایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کا تحفظ معاشروں کو محفوظ بنانے اور پانی کی پائیدار دستیابی یقینی بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اسلام آباد کے زیرِ زمین آبی ذخائر کے تحفظ اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔

Share This Article