بیرون ملک مقیم 33 ریٹائرڈ وفاقی ملازمین کو پانچ برس میں 34 کروڑ 21 لاکھ روپے پنشن ادا

5 Min Read
قومی اسمبلی میں پیش جواب کے مطابق 33 بیرون ملک مقیم وفاقی پنشنرز کو پانچ برس میں 342.1 ملین روپے ادا کیے گئے۔

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران بیرون ملک مقیم صرف 33 ریٹائرڈ وفاقی سرکاری ملازمین کو پنشن کی مد میں 342,109,614 روپے ادا کیے گئے، جبکہ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ایسے تمام وفاقی پنشنرز کے بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں جو بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔

یہ تفصیلات وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کے سوال کے جواب میں قومی اسمبلی میں پیش کیں۔ سرکاری جواب کے مطابق 2 جنوری 1959 سے قبل تعینات ہونے والے 33 سول پنشنرز بیرون ملک مقیم ہیں اور انہیں پاکستانی مشنز کے ذریعے غیر ملکی کرنسی میں پنشن ادا کی جا رہی ہے۔ ان کی پنشن پہلے پاکستانی روپے میں شمار کی جاتی ہے، جس کے بعد باقاعدہ بینکنگ چینلز کے ذریعے متعلقہ مقامی کرنسی میں ادائیگی کی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2026 کے پانچ سالہ عرصے میں ان 33 پنشنرز کو مجموعی طور پر 34 کروڑ 21 لاکھ 9 ہزار 614 روپے ادا کیے گئے، یعنی سالانہ اوسطاً تقریباً 6 کروڑ 84 لاکھ روپے بنتی ہے۔

ریکارڈ کے مطابق ان پنشنرز کی سب سے بڑی تعداد امریکا میں ہے، جہاں واشنگٹن، نیویارک اور ہیوسٹن کے ذریعے مجموعی طور پر 22 پنشنرز کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ واشنگٹن میں 11 پنشنرز کو پانچ برس میں 136.47 ملین روپے ادا کیے گئے۔ نیویارک میں 10 پنشنرز کو 101.51 ملین روپے ملے، جبکہ ہیوسٹن میں ایک پنشنر کو 23.48 ملین روپے ادا کیے گئے۔

کینیڈا میں ایسے پنشنرز کی تعداد 6 ہے۔ اوٹاوا سے منسلک 4 پنشنرز کو 14.37 ملین روپے، ٹورنٹو میں ایک پنشنر کو 24.28 ملین روپے اور وینکوور میں ایک پنشنر کو 1.79 ملین روپے ادا کیے گئے۔

دیگر ممالک میں بھی چند پنشنرز موجود ہیں۔ آسٹریا کے شہر ویانا میں ایک پنشنر کو پانچ برس میں 2.24 ملین روپے، لندن میں ایک پنشنر کو 21.47 ملین روپے، کینبرا میں ایک پنشنر کو 9.39 ملین روپے، روم میں ایک پنشنر کو 4.54 ملین روپے اور اسٹاک ہوم میں ایک پنشنر کو 2.56 ملین روپے ادا کیے گئے۔

حکومت کے مطابق ان پنشنرز کو اپنی رقم وصول کرنے کے لیے پاکستان آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو پاکستانی کرنسی میں ایک بار مہر بند ادائیگی اتھارٹی وزارت خارجہ کے چیف اکاؤنٹس افسر کو جاری کرتا ہے، جس کے بعد متعلقہ پاکستانی سفارت خانہ یا مشن بیرون ملک ادائیگی کا انتظام کرتا ہے۔

تاہم حکومت نے واضح کیا کہ ان وفاقی پنشنرز کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں جو بیرون ملک رہتے ہیں لیکن اپنی پنشن ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم کے ذریعے پاکستانی روپے میں وصول کرتے ہیں۔ سرکاری جواب کے مطابق ایسے پنشنرز قانونی طور پر اس بات کے پابند نہیں کہ وہ AGPR کو بیرون ملک منتقل ہونے کی اطلاع دیں۔ انہیں زندگی کا ثبوت فراہم کرنا ہوتا ہے، مگر AGPR کے پاس ایسا نظام موجود نہیں جس کے ذریعے آزادانہ طور پر یہ معلوم اور تصدیق کی جا سکے کہ پنشنرز حقیقتاً کہاں رہائش پذیر ہیں۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ AGPR کے پاس وفاقی حکومت سے باہر کے اداروں کے پنشنرز کی معلومات موجود نہیں، کیونکہ خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کی پنشنز ان کے متعلقہ اداروں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔

سرکاری فہرست میں شامل 33 پنشنرز میں سابق سفرا، سینئر سرکاری افسران، انجینئرز، ڈائریکٹرز، سیکریٹریز، آڈیٹرز، میڈیکل افسران اور مختلف سرکاری محکموں کے دیگر ریٹائرڈ ملازمین شامل ہیں۔

حکومت اب دنیا بھر میں مقیم پنشنرز کے لیے زندگی کی تصدیق آسان بنانے کے لیے ایک ڈیجیٹل نظام تیار کر رہی ہے۔ کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس نے نادرا کے تعاون سے پاک آئیڈینٹیٹی ایپ تیار کی ہے، جس میں لائف سرٹیفکیٹ اور پروف آف لائف کی تصدیق کا فیچر شامل ہے۔ حکومت کے مطابق یہ ایپ جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔

اس وقت بیرون ملک غیر ملکی کرنسی میں پنشن وصول کرنے والے پنشنرز یا تو لائف سرٹیفکیٹ جمع کراتے ہیں یا متعلقہ پاکستانی سفارت خانے میں ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ سوال اور جواب قومی اسمبلی کے 29ویں اجلاس کے دوران ایوان میں پیش کیے گئے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، اوورسیز پاکستانیوں، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔