کوک اسٹوڈیو نے پاکستانی موسیقی اور ثقافت کی نئی لہر کے لیے ایک نئے پلیٹ فارم ’’Coke Studio Nu.WAV‘‘ کا اعلان کیا ہے، جو ستمبر 2026 میں لانچ کیا جائے گا۔
تقریباً دو دہائیوں سے کوک اسٹوڈیو ملک بھر کی آوازوں، سازوں، زبانوں اور تخلیقی روایات کو یکجا کرتا آیا ہے۔ اسی سفر کے دوران پاکستانی موسیقی سرحدوں سے بہت آگے پہنچی اور کوک اسٹوڈیو پاکستان کی نمایاں ترین ثقافتی برآمدات میں شمار ہونے لگا۔
نئے پلیٹ فارم Nu.WAV کو کوک اسٹوڈیو کی اسی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک ایسے تخلیقی تبادلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس میں فنکار، پروڈیوسرز اور اسٹوری ٹیلرز اپنی آواز، اپنی کمیونٹیز اور اپنے سامعین خود متعین کرتے ہیں۔
کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کسی ایک تخلیقی سمت تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں مختلف زاویوں اور سوچوں کو جگہ دی جائے گی۔ موسیقی، فلم، ڈیزائن اور بصری کہانی کاری سے وابستہ معروف اور ابھرتے ہوئے تخلیق کاروں کو اکٹھا کیا جائے گا، تاکہ وہ زیادہ آزادی کے ساتھ تجربہ کر سکیں اور ابتدائی خیال سے آخری مکس تک اپنی منفرد صوتی شناخت کے ساتھ کام مکمل کریں۔ اس انداز نے پروڈیوسرز اور فنکاروں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ پلیٹ فارم سے اپنی شرائط پر جڑیں، جبکہ کوک اسٹوڈیو کے بڑے تخلیقی نظام کا حصہ بھی رہیں۔
The Coca-Cola Company کے پاکستان اور افغانستان ریجن کے جنرل منیجر سامی وحید نے Nu.WAV کے بارے میں کہا کہ تقریباً دو دہائیوں میں کوک اسٹوڈیو ایک موسیقی پلیٹ فارم سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق 15 سیزنز اور تقریباً 350 میوزیکل ریلیزز کے ذریعے یہ پاکستان کی ثقافتی شناخت کا ایک طاقتور اظہار بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ قومی فخر کا ذریعہ بنا، جس نے پاکستان کی آوازیں، کہانیاں اور روح 180 سے زائد ممالک کے سامعین تک پہنچائیں، ساتھ ہی ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو آواز دی اور ملک کی تخلیقی معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے جگہ پیدا کی۔ سامی وحید کے مطابق Coke Studio Nu.WAV اسی سفر کا اگلا باب ہے، جو اس غیر معمولی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے آج پاکستان کی آواز تشکیل دینے والے فنکاروں، پروڈیوسرز اور تخلیقی کمیونٹیز کے لیے مزید گنجائش پیدا کرے گا۔
Coke Studio Nu.WAV کی تخلیقی قیادت ایگزیکٹو پروڈیوسر کمال خان کے پاس ہے، جو ایوارڈ یافتہ فلم ساز، ڈائریکٹر اور کوک اسٹوڈیو کے تجربہ کار رکن ہیں۔
کمال خان نے کہا کہ کوک اسٹوڈیو نے ہاؤس بینڈ اور ایک واحد موسیقی سمت کے ساتھ ایک غیر معمولی روایت قائم کی، جبکہ Nu.WAV ایک مختلف راستہ اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق آج فنکار لیپ ٹاپس، ہوم اسٹوڈیوز اور اپنی موجودہ ورکنگ اسٹائل کے ساتھ موسیقی بناتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کمروں میں موسیقی بنا کر خود اسے جاری کرتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں، اس لیے پلیٹ فارم کو بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرنا تھی۔ کمال خان نے کہا کہ ان کا کام درست لوگوں کو ایک جگہ لانا، انہیں اپنا کام کرنے دینا اور پھر راستے سے ہٹ جانا تھا۔ ان کے بقول ہر گانے کی اپنی دنیا ہے، کیونکہ ہر فنکار کی اپنی دنیا ہے۔
Nu.WAV کوک اسٹوڈیو کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے اس کا دائرہ مزید وسیع کرتا ہے۔ اس میں معروف ناموں کے ساتھ پہلی بار سامنے آنے والی آوازوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، جن میں وہ فنکار بھی ہیں جنہوں نے آزاد ریلیزز، لائیو پرفارمنسز اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سامعین بنائے۔
اس راستے کو Nu.WAV Portal کے ذریعے مزید کشادہ کیا گیا، جہاں ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو گلوکاری، رقص اور دیگر تخلیقی شعبوں سمیت مختلف کیٹیگریز میں اپنا کام جمع کرانے کا موقع ملا۔ پورٹل کو پاکستان بھر سے ہزاروں انٹریز موصول ہوئیں، جن کا جائزہ لے کر شارٹ لسٹ کیا گیا۔ اس عمل سے Nu.WAV کے فنکاروں کی نشاندہی میں مدد ملی، جبکہ فائنل میوزک لائن اَپ سے باہر بھی کئی امید افزا تخلیق کار سامنے آئے۔
Coke Studio Nu.WAV کے پہلے ایڈیشن میں Aaryan SDQ، Afusic، Asim Azhar، Hasan Raheem، Izz Chughtai، Maanu، Sabaat Batin، Shae Gill، Young Stunners اور Zoha Waseem شامل ہیں۔ یہ مجموعہ پاکستان کے موجودہ موسیقی منظرنامے کو تشکیل دینے والی معروف آوازوں اور پُرجوش ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو یکجا کرتا ہے۔
Nu.WAV چھ گانوں پر مشتمل ہے، جو مل کر پاکستانی شناخت کی ایک تصویر بناتے ہیں۔ ہر گانا اپنی الگ جذباتی دنیا رکھتا ہے۔ ان گانوں کے نام Maheya، Dil، Rangeen، Qasam، Shabnam اور Ae Deewan e Dil ہیں۔ مجموعی طور پر یہ گانے امنگ سے وابستگی تک ایک ایسا سفر بیان کرتے ہیں، جس میں پاکستان کو آج کی موسیقی بنانے والے لوگوں کے ذریعے دیکھا گیا ہے۔
اس منصوبے میں گانوں کی آواز کو تشکیل دینے کے لیے پروڈیوسرز کا متنوع گروپ بھی شامل ہے، جن میں Abdullah Kasumbi، Ali Soomro، Jokhay، Rovalio، Talal Qureshi اور Umair شامل ہیں۔ Coke Studio Nu.WAV کی چھ ریلیزز الگ الگ جاری کی جائیں گی، جبکہ ہر گانے، اس کے فنکاروں اور اس کے تخلیقی پس منظر سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ ہفتوں میں سامنے لائی جائیں گی۔
