اسلام آباد (23 اگست 2026): پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے پائیداری سے متعلق مالی اور عملی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی ریٹیل برانڈز، مقامی صنعت کاروں اور حکومتوں کو اس بوجھ میں متوازن حصہ ڈالنا ہوگا۔
یہ بات آلٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز (ADS) کے زیر اہتمام قومی شعبہ جاتی مکالمے ”کرنٹس آف چینجز: ٹیکسٹائل کمپلائنس، شیئرڈ ریسپانسیبلٹی، اینڈ پاکستانز پاور مارکیٹ ٹرانزیشن“ میں کہی گئی۔ کانفرنس میں صنعت کے نمائندوں، پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، محققین، قانون دانوں اور توانائی کے شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔
نیشنل گرڈ کمپنی کے چیئرمین فیاض چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے شعبے کی اصلاحات کئی بار ساختی مسائل کی جڑ تک پہنچے بغیر نافذ کی گئیں، جس سے پیچیدگیاں کم ہونے کے بجائے بڑھیں۔ انہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی سے شروع ہونے والی پاور سیکٹر اصلاحات کا تاریخی جائزہ پیش کیا اور واپڈا کی ان بنڈلنگ، این ٹی ڈی سی کے قیام، اس کے بعد نیشنل گرڈ کمپنی میں تبدیلی اور آئی ایس ایم او کے ظہور تک ادارہ جاتی ارتقا پر روشنی ڈالی۔
فیاض چوہدری نے کہا کہ پالیسی سطح پر بار بار ایک ہی نوعیت کی غلطیاں کی گئیں، خصوصاً اداروں کو توڑنے یا ختم کرنے کے بعد ان کے موثر عملی متبادل قائم نہ کیے گئے۔ ان کے مطابق میرٹ سے انحراف اور توانائی کے شعبے کی محدود سمجھ رکھنے والے ناتجربہ کار افراد کو فیصلہ سازی کے اہم مناصب پر تعینات کرنا اصلاحات کی ناکامی کی بڑی وجہ رہا۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 70 فیصد پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں پہلے ہی بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کر رہی ہیں، جبکہ مسائل باقی 30 فیصد کمپنیوں میں گورننس سے متعلق ہیں۔ اس لیے تمام ڈسکوز کی نجکاری کے بجائے ہر کمپنی کے مسائل کا الگ الگ جائزہ لے کر اسی مناسبت سے حل نکالا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم گرما اور موسم سرما میں بجلی کی طلب کے فرق کے ساتھ ساتھ دن اور رات کے اوقات میں کھپت کا بڑھتا ہوا فرق بھی بڑا چیلنج بن چکا ہے، جبکہ سولرائزیشن نے بجلی کے استعمال کے رجحانات کو مزید بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کی ان بنڈلنگ سے ایک مضبوط ادارہ کمزور ہوا اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کا عمل رک گیا، جبکہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا آئی پی پی ماڈل بعد میں پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز کا سبب بنا۔
تاہم فیاض چوہدری نے کہا کہ پاور سیکٹر اب درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے CTBCM کے نفاذ کے لیے آئی ایس ایم او کی جاری کوششوں کو سراہا۔ ان کے مطابق مسابقتی تجارتی دو طرفہ کنٹریکٹ مارکیٹ (CTBCM) ایک اہم ڈھانچہ جاتی اصلاح ہے، جو پاکستان کو ریاستی کنٹرول کے ”سنگل بائر ماڈل“ سے کھلی اور مسابقتی ہول سیل بجلی مارکیٹ کی طرف لے جانے میں مدد دے سکتی ہے۔
ADS کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امجد نذیر نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت میں پائیداری اور مسابقت پر تعمیری مکالمے کو فروغ دینا اور کمپلائنس، ڈی کاربنائزیشن، فنانسنگ، خریداروں کی توقعات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور افرادی قوت کی استعداد سے متعلق چیلنجز کے عملی حل تلاش کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ADS کی جانب سے Shared Transition Responsibility Movement (STRM) کو مشترکہ ذمہ داری کے ایک طریقہ کار کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ اس کے ڈیزائن اور نفاذ کے لیے صنعت سے آرا لی جا رہی ہیں۔ امجد نذیر نے کہا کہ اس اقدام کا ایک مقصد صنعتی اسٹیک ہولڈرز میں CTBCM کی عملی سمجھ پیدا کرنا بھی ہے، جس میں نیلامی کے عمل، فنانسنگ ضروریات، قابل تجدید توانائی کے امکانات اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) جیسے امور شامل ہیں۔
نیپرا کے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ امتیاز حسین بلوچ نے نیپرا اور وسیع تر توانائی کے نظام میں فیصلوں کو متاثر کرنے والی ریاضیاتی اور ساختی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی پالیسی میں درجنوں متضاد عوامل کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے، اس لیے کسی ایک مارکیٹ حل کو مکمل طور پر درست یا غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اپٹما کے توانائی مشیر عاصم ریاض نے کہا کہ ایران امریکا جنگ نے توانائی کے تحفظ کو دنیا کے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق CTBCM پاکستان کو مقامی توانائی وسائل کے بہتر استعمال اور توانائی میں زیادہ خود انحصاری کی طرف بڑھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر آفتاب خان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں غیر تربیت یافتہ اور کم ہنر مند افرادی قوت پر انحصار پیداواری لاگت میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این پی او نے کم یا بغیر سرمایہ کاری کے طریقہ کار کے تحت ایک ہزار سے زائد ایس ایم ایز اور صنعتی یونٹس میں ریسورس ایفیشنسی اور انرجی آڈٹ کیے ہیں، جن سے اخراجات میں کمی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری آئی۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نوید ارشد نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں موٹرز کا حصہ تقریباً 85 فیصد ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے تحفظ اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بجلی کی کھپت میں 20 سے 30 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شہزاد مقصود نے صنعتی فضلے کی ری سائیکلنگ کے سائنسی اور کاروباری امکانات پر گفتگو کی۔ انہوں نے ویسٹ اور ٹریش، اسی طرح ری سائیکلنگ اور اپ سائیکلنگ کے فرق کو واضح کیا اور صنعتی نالوں اور لینڈ فلز کی صفائی سمیت سولر پینل اور بیٹری ویسٹ کے لیے تجارتی سطح پر قابل عمل حل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
نسٹ کے USPCAS-E میں ای ای پی کے سربراہ ڈاکٹر سید علی عباس کاظمی نے صنعتی سولرائزیشن اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے تکنیکی اور معاشی اثرات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ CTBCM کے کمزور ڈیزائن کردہ قواعد نئے stranded-cost خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے گرڈ کنجیشن اور صنعتوں کی اوپن مارکیٹ بجلی تجارت میں شرکت کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
ADS کی انرجی ٹرانزیشن آفیسر اشفا اشرف نے ESG کمپلائنس کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برانڈز کو پائیداری کے اخراجات صرف گلوبل ساؤتھ کے مینوفیکچررز پر ڈالنے کے بجائے ان کوششوں میں مالی تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان شیئرڈ ٹرانزیشن ریسپانسیبلٹی کنسورشیم کی توجہ مشترکہ سرمایہ کاری، پروکیورمنٹ اصلاحات، شفافیت، ڈیٹا الائنمنٹ اور پائیدار مینوفیکچرنگ پر ہے۔
ADS کے انرجی ٹرانزیشن آفیسر محمد عثمان بن احمد نے CTBCM Readiness Toolkit پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹول کٹ صنعتی خریداروں اور فروخت کنندگان کو دو طرفہ بجلی معاہدوں کے لیے اپنی تکنیکی اور مالی تیاری کا جائزہ لینے میں مدد دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹول کٹ Use of System Charges (UoSC) اور System Marginal Price (SMP) سے متعلق عدم توازن کے خطرات کو ماڈل کر کے مارکیٹ تیاری کا اندازہ لگاتی ہے۔
کانفرنس میں ”فرام کمپلائنس پریشر ٹو کولیبریٹو سلوشنز“ کے عنوان سے پینل مباحثہ بھی ہوا، جس میں شرکا نے ٹیکسٹائل ویلیو چین میں ٹریس ایبلٹی، شفافیت اور برانڈز و سپلائرز کے منصفانہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، جسٹ ٹرانزیشن کے اصولوں اور ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹس کی اہمیت پر زور دیا۔
ایک اور پینل ”پالیسی اینڈ انسٹی ٹیوشنل پرسپیکٹوز: CTBCM“ میں شرکا نے قابل تجدید توانائی کے انضمام، گرڈ انفراسٹرکچر اور توانائی کی کارکردگی کو صنعتی مسابقت اور لچک کے لیے بنیادی عوامل قرار دیا۔
