اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے لیے جامعاتی قیادت کا کردار کلیدی ہے، وجیہہ قمر

newsdesk
8 Min Read
سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اور دیگر سینئر عہدیداران وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر کے ہمراہ گروپ فوٹو بنوا رہے ہیں۔

اسلام آباد، 18 اگست 2026ء: ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے ادارے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن نے جامعات کی سینئر قیادت کی انتظامی و قائدانہ صلاحیتوں میں بہتری کے لیے تین روزہ ورکشاپ ’’اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ لیڈرشپ ایکسیلنس‘‘ کا آغاز کر دیا۔ ورکشاپ کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں کو درپیش تعلیمی، انتظامی، گورننس اور مالیاتی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے قیادت کی استعداد کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ تین روزہ ورکشاپ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ فنانس میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، پرو وائس چانسلرز، سینئر ڈینز اور قانونی عہدیداران شریک ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور راولپنڈی ریجن کی خواتین جامعات کی قیادت بھی ورکشاپ میں شامل ہے۔

تربیتی پروگرام کے ذریعے اسٹریٹجک پلاننگ، ادارہ جاتی پائیداری، وسائل کے حصول، گورننس، کارکردگی کے انتظام، مصنوعی ذہانت کے تناظر میں ڈیجیٹل تبدیلی اور اعلیٰ تعلیم میں جدت کو فروغ دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ورکشاپ جامعاتی رہنماؤں کو اپنے تجربات کے تبادلے اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ابھرتے رجحانات اور مواقع پر غور و فکر کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔

افتتاحی تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر تھیں۔ اس موقع پر نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک اور ان کی ٹیم بھی موجود تھی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت وجیہہ قمر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کی تشکیل، پائیدار ادارہ جاتی ترقی کے فروغ اور شعبہ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے لیے جامعات کے سربراہان کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور جامعات کو قومی ترقی کے لیے ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کی خاطر علم، ٹیکنالوجی اور ہنرمند انسانی سرمایہ تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وجیہہ قمر نے روایتی طریقہ کار سے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گریجویٹس کو ایسی مہارتوں اور صلاحیتوں سے آراستہ کیا جائے جن سے وہ خود انحصاری کی طرف بڑھ سکیں۔ انہوں نے صنعت اور اکیڈمی کے روابط کو مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کی اور کہا کہ ایسے صنعت سے ہم آہنگ تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جو طلبہ کو عملی تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کریں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ جامعات پر نوجوانوں کو جدید دنیا کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے باعث بعض تعلیمی شعبوں کی افادیت کم ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’غیر مؤثر شعبوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اور نوجوانوں کو دنیا کے ساتھ قدم ملانے کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جائے۔‘‘

انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ موجود خامیوں کی کھل کر نشاندہی کریں اور مسائل کے ممکنہ حل کے بارے میں اپنی آرا پیش کریں۔ وجیہہ قمر نے کہا کہ ’’آپ میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ آگے بڑھے اور چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کے بارے میں بات کرے تاکہ ہم حقیقی حل کی طرف بڑھ سکیں۔‘‘ انہوں نے اس ضمن میں اپنی مسلسل اور جامع معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔

اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے کہا کہ یہ ورکشاپ اس مقصد کے لیے ترتیب دی گئی ہے کہ جامعاتی رہنماؤں کو اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش اہم مسائل پر ماہرین اور عملی تجربہ رکھنے والے افراد کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ لیڈرشپ ایکسیلنس ورکشاپ کا پہلا خصوصی کوہورٹ دسمبر 2025ء میں بلوچستان کی جامعاتی قیادت کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک کے مطابق موجودہ کوہورٹ متحرک اور متنوع ہے، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی چھ جامعات، گلگت بلتستان کی دو جامعات اور خیبر پختونخوا و راولپنڈی ریجن کی تین، تین جامعات کی نمائندگی شامل ہے۔ انہوں نے جامعات کو انفرادی اداروں کے طور پر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامعات کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اجتماعی انداز میں کام کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھیں۔‘‘ انہوں نے شرکا کی فعال شرکت کی اہمیت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ ورکشاپ سیکھنے کا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی اور شرکا کے درمیان مشترکہ طور پر مسائل کے حل کو فروغ دے گی۔

افتتاحی تقریب کو انٹرایکٹو انداز میں منعقد کیا گیا، جس میں شرکا نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل پر وزیر مملکت سے براہ راست تبادلہ خیال کیا۔ شرکا نے جامعات کے درمیان زیادہ تعاون اور وسائل کے اشتراک کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی مختلف اداروں کے منفرد حالات اور چیلنجز کا بھی اعتراف کیا۔

شرکا نے جامعات کی خودمختاری کے لیے قانون سازی میں اصلاحات، نیشنل ماڈل یونیورسٹی ایکٹ کی تشکیل اور قومی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سرکاری جامعات کے لیے recurring grants میں جمود کی طرف بھی توجہ دلائی اور ادارہ جاتی پائیداری اور قومی سماجی و معاشی ترقی کے لیے اعلیٰ تعلیم میں عوامی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ گفتگو میں آمدن کے ذرائع کو متنوع بنانے اور جامعات کی مالی پائیداری مضبوط کرنے کی اہمیت بھی نمایاں کی گئی۔ وزیر مملکت نے جامعاتی قیادت کو یقین دلایا کہ وہ اہم مسائل اور خدشات کے حل کے لیے اپنی بھرپور حمایت فراہم کریں گی۔

تین روزہ ورکشاپ میں اعلیٰ تعلیم کے انتظام سے متعلق اہم موضوعات پر تفصیلی سیشنز شامل ہیں، جن میں پائیداری اور وسائل کا حصول، مالیاتی انتظام، چیلنجز اور ممکنہ حل، وائس چانسلرز پلے بک: حکمت عملی، اسٹیک ہولڈرز اور پائیدار ترقی، اسٹریٹجک پلاننگ اور یونیورسٹی گورننس ماڈلز، کارکردگی کے انتظام میں معیار بندی، اور اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت: پاکستانی جامعات کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت شامل ہیں۔ مقررین اور ریسورس پرسنز میں مختلف شعبوں کے سینئر حکام اور ماہرین شامل ہیں۔

یہ تربیتی اقدام ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ان مسلسل کوششوں کا عکاس ہے جن کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں قائدانہ صلاحیت کو مضبوط بنانا اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں ادارہ جاتی ترقی کو منظم تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے ذریعے سہارا دینا ہے۔

Share This Article