یومِ آزادی پر چیئرمین سینیٹ کا قومی اتحاد اور آئین کی بالادستی کا پیغام

newsdesk
6 Min Read
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں قومی یومِ آزادی تقریب سے خطاب کیا۔

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ 14 اگست صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ ایمان، آزادی، خودمختاری، جمہوریت اور قومی عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن قوم کو اس تاریخی جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں قائداعظم محمد علی جناح کی دوراندیش قیادت میں پاکستان قائم ہوا۔

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں قومی یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے پوری قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے تحریکِ پاکستان کے بانیان، قائدین اور کارکنوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان لاکھوں افراد کی قربانیوں کو بھی یاد کیا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے ہجرت کی مشکلات برداشت کیں اور بڑی قربانیاں دیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع، سلامتی، امن اور خودمختاری کے لیے ان کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔ ان کے مطابق مسلح افواج ہر مشکل وقت میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور سرحدوں کے دفاع، دہشت گردی کے مقابلے، داخلی سلامتی کے تحفظ اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں مثالی کردار ادا کیا۔

چیئرمین سینیٹ نے ملک کی سول اور عسکری قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان اپنے قومی مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے اور عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے مکہ دفاعی معاہدے کو اہم سفارتی اور تزویراتی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس معاہدے سے علاقائی تعاون، باہمی اعتماد اور اجتماعی سلامتی کے نئے راستے کھلے ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت متعدد پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے، جن میں معاشی دباؤ، بے روزگاری، توانائی اور پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، صحت، تعلیم اور ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار قومی ترقی کے حصول کے لیے قومی اتحاد، آئین پسندی، قانون کی حکمرانی، میرٹ، انصاف اور مضبوط ادارے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا روشن مستقبل انسانی وسائل، تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، برآمدات، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری سے جڑا ہوا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے مطابق نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے تاکہ وہ جدت لانے والے، کاروبار شروع کرنے والے اور روزگار پیدا کرنے والے شہری بن سکیں۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی طاقت اس کے تمام شہریوں کی مساوی عزت اور شرکت میں ہے۔ انہوں نے مذہبی اقلیتوں، کسانوں، مزدوروں، خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی میں ان کی خدمات کو تسلیم، محفوظ اور مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے تنوع کا ذکر کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر قومی ڈھانچے کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف زبانیں، ثقافتیں اور روایات قومی اتحاد اور اجتماعی قوت کا ذریعہ بننی چاہئیں۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان تمام ممالک، خصوصاً ہمسایہ ممالک، کے ساتھ پرامن، باوقار اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق، جن میں آزاد اور خودمختار ریاست کا حق بھی شامل ہے، کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

قوم کے نام اپنے پیغام میں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قومی مفادات کو ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئین، جمہوری ادارے اور قانون کی حکمرانی ریاست کی بنیاد رہنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں بھی حوصلے، استقامت اور اتحاد کے ذریعے کئی مشکلات پر قابو پا چکا ہے اور آج بھی اسی قومی جذبے سے درپیش مسائل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ قائداعظم کا اصول ’’ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط‘‘ صرف قومی نعرہ نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پاکستان کے مستقبل کے لیے عملی رہنما اصول بنایا جانا چاہیے۔

قبل ازیں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان مونومنٹ اسلام آباد میں یومِ آزادی کی پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی اور قومی پرچم لہرایا۔ انہوں نے بانیانِ پاکستان، تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں اور تحریکِ آزادی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاکستان کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

Share This Article