اسلام آباد، 9 اگست 2026: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شذہ فاطمہ خواجہ نے مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کو مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں دیرپا امن کے لیے نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ مسلم امہ کے لیے امن، یکجہتی اور باہمی تعاون کی نئی راہیں کھولتا ہے۔ ان کے مطابق آنے والی نسلیں اس معاہدے کو بھائی چارے، باہمی اعتماد اور مشترکہ امن کے ایک روشن اور نئے باب کے طور پر یاد رکھیں گی۔
شذہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی بصیرت افروز قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قائدین کے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط اور مخلص قیادت اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور امن کی راہ ہموار کرتی ہے۔
وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شبانہ روز کوششوں کو بھی سراہا اور پوری قوم کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے علمبردار کے طور پر ایک نیا مقام اور وقار حاصل کیا ہے۔
شذہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت تینوں برادر ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب ایک دوسرے کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی معاہدے نے پوری مسلم امہ میں ایک نیا عزم، اعتماد اور امید پیدا کی ہے۔
