راولپنڈی: پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے یومِ استحصال کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور اقبال کے تصورِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ کشمیری ہمارے بہن بھائی ہیں جن سے حقِ خودارادیت کا وعدہ عالمی برادری نے کر رکھا ہے۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں کیے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو 2557 دن گزر چکے ہیں۔ مظلوموں کا ساتھ دینا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا انسانی فریضہ ہے، جبر و بربریت کے ذریعے کسی قوم کو ہمیشہ محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جبر کے سامنے ڈٹے ہوئے کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے جنت نظیر سرزمینِ کشمیر کو ہتھیانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے، جن میں 5 اگست کا اقدام بھی شامل ہے، جب آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور کشمیریوں سے ان کی شناخت چھیننے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق کشمیری عوام مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن کی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ موبائل فون، انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ بند کر کے انہیں دنیا سے کاٹنے اور تنہا کرنے کی سازش کی گئی۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حل طلب دیرینہ مسئلہ ہے۔ قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن حملوں کے نتیجے میں کشمیری بچوں اور نوجوانوں کو بینائی سے محروم کیا گیا۔ قتل و غارت، خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں اور سینئر قائدین کی گرفتاریاں بھی کشمیری عوام کو حقِ آزادی کی جدوجہد سے نہیں روک سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی ممالک ہیں، اس لیے جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل سے جڑا ہوا ہے۔ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق فوری حل ہی خطے میں امن اور خوشحالی کے خواب کو عملی شکل دے سکتا ہے۔
محمد عامر صدیقی نے اقوامِ عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام پر جاری بھارتی ظلم و بربریت، قتلِ عام اور قید و بند کا نوٹس لے کر مسئلہ کشمیر کے حل کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام ہر سطح پر کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی، سماجی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ آزادی کے متوالوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی، ظلم و ستم کا سورج جلد غروب ہوگا اور آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔
