کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف کر کے یہ تسلیم کیا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط ہونے والے اور مسلط کرنے والے دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر جیتنے والوں کو جیتنے دیا جائے اور ہارنے والوں کو مسلط نہ کیا جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
یکم اگست 2026ء کو ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سب اپنی اپنی آئینی پوزیشن پر چلے جائیں تو نظام خود بخود درست ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب معاملات قابو سے باہر ہوتے ہیں تو ایسی باتیں سامنے لائی جاتی ہیں جن سے لوگ آپس میں الجھیں، لسانی بنیادوں پر بحث شروع ہو اور اصل معاملہ پیچھے چلا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 2015ء سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے جبکہ کراچی میں جماعت اسلامی کا میئر بننے کا راستہ روکا گیا۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی خود فارم 47 کی پیداوار ہے، بلاول بھٹو کراچی سے ملنے والی 7 نشستوں کے فارم 45 دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جن کو 17 نشستیں نہیں ملیں، ان کو پورا ملک دے دیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ رجیم چینج کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا، ملک میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کرانا ضروری ہے، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور فوج سمیت تمام حکمران طبقہ اپنی غیر ضروری مراعات سے دستبردار ہو۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ پیٹرول لیوی کی ظالمانہ وصولی کے خلاف جماعت اسلامی 7 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کرے گی اور سڑکیں بند کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 3 اگست کو شاہراہ قائدین پر خواتین کا زبردست احتجاجی مارچ ہوگا جبکہ 2 اگست کو نوجوان بھی احتجاج کے لیے نکلیں گے اور 7 اگست کے احتجاج کی تیاری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنا آئینی و قانونی حق استعمال کر کے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے بلوچستان میں 35 کان کن مزدوروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے لیکن وفاق اور صوبے سمیت کوئی حکمران جماعت اسے اون کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے آزاد کشمیر میں معاملات بگاڑ دیے ہیں۔ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کر لیا جاتا تو صورتحال اتنی خراب نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ گولی سے مسئلہ حل کرنے سے نفرتیں بڑھتی ہیں اور بیرونی طاقتیں اور ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر میں اب بھی مسائل کے حل کا راستہ مذاکرات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا لہجہ پاکستان کو زخمی کر رہا ہے اور یہ طرز حکمرانی چھوڑنا پڑے گا۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں، آزاد جموں کشمیر میں پیپلز پارٹی کے پرائم منسٹر سمیت حکومت پاکستان نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے ہمیشہ اپنی خدمات پیش کیں۔ گزشتہ چند دنوں کے واقعات نے ہر پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، فورسز کے لوگ بھی ہمارے لوگ ہیں اور آزاد کشمیر کے لوگ بھی ہمارے بھائی ہیں۔ ہم کسی پاکستان مخالف بیانیے کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کرتے بلکہ صورتحال کو مذاکرات سے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
پیٹرولیم قیمتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے خطے میں کرنسی کے حساب سے پاکستان میں سب سے مہنگا پیٹرول فروخت ہو رہا ہے۔ لیوی عوام کے ساتھ انتہائی ظلم اور حکومتی بھتہ ٹیکس ہے۔ جب حکمرانوں سے لیوی ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، اس لیے لیوی ختم نہیں کر سکتے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ باتیں بے بنیاد ہیں، اصل میں حکومت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور ایف بی آر کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔
انہوں نے اویس لغاری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں 3 کروڑ موٹر سائیکلیں ہیں اور انہیں چلانے والا غریب و متوسط طبقہ بھاری ٹیکس اور لیوی ادا کر رہا ہے۔ جن کی آمدنی قابل ٹیکس نہیں، وہ بھی ٹیکس اور لیوی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو تمام اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور غریب عوام کا بجٹ مکمل طور پر متاثر ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں اور عوام پر سارا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بجلی کی قیمت بڑھنے کے بعد جب عوام سولر پر جاتے ہیں تو حکومت سولر پالیسیاں تبدیل کر دیتی ہے۔ ایسے نااہل حکمران مسلط کر دیے گئے ہیں جو کوئی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
پریس کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، نائب امرائے کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، راجہ عارف سلطان، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے۔
