اسلام آباد: عوام پاکستان پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس ٹیکس بڑھانے اور قرض لینے کے سوا کوئی مؤثر معاشی حکمت عملی نہیں، جبکہ بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات، بدعنوانی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کو گہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی محاذ آرائی اور انتقامی سیاست سے باہر نکل کر آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، شفاف طرزِ حکمرانی اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی نائب صدر چوہدری انعام ظفر، مرکزی نائب صدر فاطمہ عاطف، پارٹی کنوینر سرفراز افضل اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران عوام کی حقیقی آمدن اور قوتِ خرید میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ فی کس ٹیکس بوجھ تقریباً دوگنا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کو اپنی تعلیم اور مہارت کے مطابق روزگار نہیں مل رہا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی قرضہ تقریباً 45 کھرب روپے سے بڑھ کر 85 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ سرمایہ کاری کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس، پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ غیر یقینی ٹیکس نظام نے کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
حکومت کی زرعی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غلط فیصلوں نے کسانوں کو تباہ کر دیا، آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور پاکستان کو گندم درآمد کرنے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ معاشی بحالی کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مؤثر اصلاحات، شفاف حکمرانی اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں۔ انہوں نے حکومت، اپوزیشن، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر قومی اداروں کے درمیان جامع سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف نئے انتخابات ملک کے مسائل کا حل نہیں، بلکہ موجودہ بحرانوں سے نکلنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے اور بامعنی اصلاحات ضروری ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ جبر، سیاسی انتقام اور تقسیم سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے سیاسی کشیدگی ختم کرنے، سیاسی رہنماؤں کو آزادانہ نقل و حرکت اور عوام سے رابطے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا اور تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں مل کر ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالنے کے لیے کردار ادا کریں۔
