اپر دیر کے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی اسکول کے احاطے میں 26 جولائی 2026 کی شام ایک ایسی تقریب منعقد ہوئی جس نے چار دہائیوں پر پھیلی یادوں، محبت اور احترام کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ یہ محض سابق طلبہ کا اجتماع نہیں تھا بلکہ استاد اور شاگرد کے اس رشتے کا اظہار تھا جو وقت گزرنے کے باوجود کمزور نہیں ہوتا۔
تقریب میں سابق طلبہ نے اپنے اساتذہ کا استقبال عقیدت اور احترام کے ساتھ کیا۔ کئی شاگرد اپنے اساتذہ سے گلے ملتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ اس موقع پر پہلی نصیحت، پہلی ڈانٹ، پہلا حوصلہ اور وہ شفقت بھرا ہاتھ یاد کیا گیا جس نے کبھی گرتے ہوئے شاگرد کو سنبھلنے کا سبق دیا تھا۔ سفید بالوں اور جھکی کمر کے باوجود استاد اور شاگرد کا تعلق اسی پاکیزگی اور گہرائی کے ساتھ موجود دکھائی دیا۔
اس تاریخی پروگرام کے انعقاد کے پیچھے ایک کور کمیٹی کی مسلسل محنت شامل تھی۔ انجینئر طارق بابر، صدر ایلومنائی ایسوسی ایشن، اس پورے پروگرام کے روح رواں رہے۔ ریٹائرڈ اساتذہ سے رابطہ، ان کے اوقات کار کی ترتیب، مہمانوں کے استقبال سے لے کر اختتامی لمحات تک نظم و ضبط برقرار رکھنا، سب ان کی انتھک کاوشوں کا نتیجہ تھا۔
پروفیسر واجد رضا نے اس تقریب کے تصور کو عملی شکل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہی کی تجویز تھی کہ اساتذہ کو اسی درس گاہ میں واپس بلایا جائے جہاں انہوں نے اپنی زندگیاں علم بانٹنے میں گزاریں۔ انہوں نے سرٹیفکیٹس، اعزازی شیلڈز، یادگاری تحائف اور دعوت ناموں کی تیاری میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، جس سے تقریب کو ایک خوبصورت اور منظم رنگ ملا۔
صدیق اللہ (ڈی ایس او) نے تحائف، مہمان نوازی اور انتظامات کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کا گرم جوش انداز بتا رہا تھا کہ یہ ان کے لیے صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ اپنے اساتذہ سے ملاقات کا ایک جذباتی لمحہ تھا۔ صاحبزادہ مظہرالدین، نائب صدر، نے اپنی شاعری اور پُراثر گفتگو سے محفل کو ادبی حسن بخشا۔ مفتی نثار کی موجودگی نے تقریب کے ماحول کو روحانی رنگ دیا، جبکہ نگار حسین نے عشائیے اور مہمان نوازی کے انتظامات نہایت توجہ سے انجام دیے۔
میڈیا انچارج شاہ خالد خان ہمدانی نے امریکا سے بھی اس پروگرام کو عالمی سطح تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ ان کی صحافتی خدمات پر دی جانے والی شیلڈ ان کے بچوں عنابیہ، حلیمہ اور فہد نے وصول کی۔ ننھے ہاتھوں میں شیلڈ دیکھ کر حاضرین جذباتی ہو گئے، گویا یہ احترام ایک نسل تک محدود نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والا سرمایہ ہے۔
ذاکر اللہ صافی، عنایت اللہ، راشد احمد، آصف اقبال، اسد اقبال اور ارشد خان نے مالی ذمہ داریوں، سامان کی فراہمی، انتظامی امور اور دیگر چھوٹے بڑے کاموں میں دن رات ساتھ دیا۔ منتظمین کے مطابق ان ساتھیوں کی محنت کے بغیر یہ خواب حقیقت کا روپ اختیار نہ کر پاتا۔
تقریب کے آغاز میں ان اساتذہ کو خصوصی طور پر یاد کیا گیا جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ محترم استاد بزرگ احمد صاحب، استاد حبیب اللہ صاحب اور استاد فضل سبحان صاحب کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر فضا پر گہری خاموشی چھا گئی اور کئی طلبہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ان مرحوم اساتذہ کی اعزازی شیلڈز ان کے صاحبزادوں نے وصول کیں۔ یہ منظر حاضرین کے دلوں کو چھو گیا، جیسے وہ بزرگ خود بھی اس محفل میں اپنی دعاؤں کے ساتھ موجود ہوں۔
اعزاز پانے والے اساتذہ میں سابق پرنسپل صاحبزادہ فضل اللہ صاحب، لائق سعید صاحب، پیر شیر عالم، فضل ربی، نجم الرحمٰن، ارشاد شاہین، شمس الدین صاحب اور 25 سے زائد دیگر معزز اساتذہ شامل تھے۔ جب یہ اساتذہ اسکول کے گیٹ سے داخل ہوئے تو فضا میں ایک عجیب وقار اور خاموشی محسوس ہوئی۔ پھولوں کے ہار، روایتی دیری ٹوپیاں، گلدستے اور شاگردوں کی تالیاں اس استقبال کو یادگار بنا رہی تھیں۔
سابق پرنسپل صاحبزادہ فضل اللہ صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ جو بچے کبھی ان کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے، آج وہ ڈاکٹر، انجینئر، صحافی اور پروفیسر بن کر سامنے بیٹھے ہیں۔ ان کے آنسوؤں نے محفل میں موجود ہر دل کو متاثر کیا۔ اساتذہ نے اپنے شاگردوں کی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کیا۔ مظہرالدین صاحب کی شاعری، گل احمد صاحب کی غزل، فضل ارمان کی نظم اور سہیل صاحب کی نعت نے تقریب کو روحانی اور جذباتی گہرائی عطا کی۔
شیلڈز تقسیم کرنے کے دوران اساتذہ کے چہروں پر فخر اور آنکھوں میں نمی ایک ساتھ دکھائی دی۔ طلبہ نے اپنے اساتذہ کے ہاتھ چومے، انہیں گلے لگایا اور پرانی یادوں کو تازہ کیا۔ شام کے وقت جب اساتذہ اور شاگرد اسکول کے احاطے میں سجی میزوں پر اکٹھے بیٹھے تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت پیچھے لوٹ آیا ہو۔
تقریب کے اختتام پر اساتذہ دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوئے اور شاگرد انہیں گاڑیوں تک چھوڑنے گئے۔ آنکھیں نم تھیں مگر دلوں میں ایک گہرا سکون تھا کہ نسلوں کا وہ قرض، جو علم، تربیت اور محبت کی صورت میں ملا تھا، کم از کم کسی حد تک ادا کرنے کی کوشش کی گئی۔
