راولپنڈی: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے ورلڈ سکلز ڈے کے حوالے سے کہا ہے کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں مستقبل کی ضروری مہارتوں سے روشناس کرانا نہایت ضروری ہے۔ تعلیم اور فنی تربیت آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور یہی نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ موجودہ دور میں بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ وہ کامیاب اور بااختیار شہری بن سکیں۔ ان کے مطابق تعلیم کے ساتھ معیاری تکنیکی اور پیشہ ورانہ سکلز فراہم کر کے نوجوانوں کو ہنرمند بنایا جائے تو وہ ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور اسی سے پاکستان اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا دشوار ہو گیا ہے۔ عامر صدیقی کے مطابق مہنگائی کے اس طوفان کو روکے بغیر کاروبارِ زندگی چلانا ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہو گا۔
محمد عامر صدیقی نے کہا کہ بجلی، گیس، ایل پی جی، پیٹرول، ادویات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے والدین کے لیے اپنی اولاد کو اعلیٰ اور فنی تعلیم دلانا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے بقول پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں عوام پر بجلی بن کر گر رہی ہیں جبکہ بجلی کے بلوں نے عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ شدید گرمی میں بھی لوگ بھاری بلوں کی ادائیگی کے لیے گھریلو اشیا فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے اور مفت بجلی استعمال کرنے والوں نے یونٹوں کے چکر میں عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطالبات کی تکمیل کے لیے عام آدمی ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اور قربانیاں بھی عوام ہی سے لی جا رہی ہیں، جبکہ مفت سہولیات اور مراعات اشرافیہ اور بیوروکریسی کو حاصل ہیں۔
عامر صدیقی نے مزید کہا کہ بجٹ کی منظوری کے بعد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ چینی، چاول، دالیں اور خصوصاً پیکج دودھ کی قیمتوں پر کوئی پوچھ گچھ دکھائی نہیں دیتی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بجلی کی پیداوار کے لیے فوری طور پر آبی ذخائر جیسے سستے ذرائع کی جانب بڑھے۔ وقتی اور فوری ضرورت کے حل کے لیے ایران اور روس جیسے ممالک سے معاہدوں کے مطابق بجلی اور پیٹرول کے ذریعے عوام کو فوری ریلیف دیا جائے تاکہ مہنگائی کو بریک لگے، عوام حقیقی ریلیف سے مستفید ہوں، تعمیر و ترقی کا عمل آگے بڑھے اور ملک خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔ انہوں نے کہا کہ عزمِ عالیشان، سب سے پہلے پاکستان اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
